انوارالعلوم (جلد 6) — Page 5
الوار العلوم جلد 4 ضرورت مذہب ت کارخانہ عالم کا انتظام منتظم انتظام منتظم کو چاہتا ہے اب وہ انسان کی حالت پر وہ کہتےہیں کہ یا یہ ایسا ہے جیسا سمندر میں حباب اور حباب میں مختلف رنگ جو فوراً میٹ جاتے ہیں۔ پھر اس کے علاوہ اور عالم ہیں دیگر ستاروں کے متعلق تو یقینی تحقیق نہیں مگر MORS (مریخ ) کے متعلق خیال ہے کہ اس میں آبادی ہے ۔ انسان کے متعلق جب ہم ہم خیال خیال کرتے ہیں ہیں تو تو اس کی پیدائش لغو معلوم نہیں ہوتی اور اور پھر اس کے کے لئے جو سامان ہیں وہ کیسے اکمل اور ابلغ ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا دمدار ستارے کے متعلق ایک امریکن ہیئت دان نے شائع سے لوگوں کیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور نہ مین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگی ۔ اس خیال سے بہت سے سے زمین نے یورپین ملکوں میں خود کشیاں کرلی تھیں۔ بعض نے کہا کہ ٹکرائے گا نہیں مگر ایسی گیسٹر پیدا ہونگی جن سے دم گھٹ جائیں گے۔ لیکن وہ دن آیا اور گزر گیا۔ معلوم ہوا وہ ایسے خفیف ذرے تھے کہ زمین پر ان کا کچھ اثر نہ تھا ۔ دیگر ستاروں کے متعلق بھی مانا جاتا ہے کہ جب وہ زمین کے برابر آتے ہیں تو فوراً اپنا رستہ بدل لیتے ہیں۔ پس یہ تغیرات بتاتے ہیں کہ اتفاقی نہیں بلکہ کوئی ہستی ہے جو اپنے ارادے کے ماتحت تغیرات کرتی ہے۔ فرض کرو کوئی اینٹ گری پڑی ہو۔ اس کے متعلق خیال کیا جا سکتا ہے کہ اتفا قا گر گئی ہے ، ہوانے گرا دی ۔ مگر عمارت کے متعلق یہ نہیں کہا جائیگا کہ اتفاقاً تیار ہو گئی ہے ۔ یا اگر کہیں سیاہی گر جائے تو ممکن ہے کہ اس سے آنکھ کی سی شکل بن جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ آنکھ بنے ۔ ناک چڑ اور اور انسان کی مکمل تصویر سیاہی گرنے سے ہی بنے اور پھر انسان کے غم یا خوشی کی علامات بھی اس سے ظاہر ہوں ۔ اگر انسان کی ایسی تصویر ہوگی تو اس سے پتہ لگے گا کہ کسی ہو شیار مصور کی کاریگری ہے ۔ اب دیکھو آنکھ پیدا کی گئی ہے تو اس کے لئے لاکھوں کوس کے فاصلہ پر سورج بنایا گیا ہے اسی طرح معدہ بنایا گیا ہے تو وہ چیزیں بھی بنائی گئی ہیں جن سے وہ پر ہوتا ہے ۔ ان انتظامات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مدیر بالا رادہ ہستی کے ماتحت یہ کارخانہ اپنا کام کر رہا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے۔ پس دنیا کی تدوین بتاتی ہے کہ اس کا پیدا کر نیوالا کوئی ہے اور پیدا کرنے میں اس کی کوئی غرض ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس نے پیدا کر کے یونہی چھوڑ دیا ۔ اتفاق کے معنی ہوتے ہیں جس کام میں سلسلہ نہ ہو لیکن جس میں سلسلہ ہو وہ اتفاق نہیں کہلاتا ۔ مذہب کی ضرورت کا احساس کسی طرح ہو سکتا ہے پس انسان کی پیدائش کی غرض ہے اور مذہب انسان کے فائدے کے لئے ہے مگر بہت سے فوائد محسوس نہیں ہوتے ۔ مثلاً جب ریل نہ تھی تو ہمیں اس کی ضرورت بھی