انوارالعلوم (جلد 6) — Page 182
انوار العلوم جلد 4 ۱۸۲ آئینه صداقت مسیح موعود نے دیا ۔ تو انہوں نے اس پر بہت کچھ نا امیدی کا اظہار کیا ۔ اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خواہ مخواہ مہنسی کا موجب ہوگا۔ مگر حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ مضمون بالا رہا چنانچہ حضرت مسیح موعود نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا۔ اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی و تشفی بھی دلائی ۔ مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ بالله لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔ آخر حضرت مسیح موعود کا حکم بنا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دیئے گئے تاکہ لوگ ان کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود کو بھی کہا جا سکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے۔ کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ " بالا رہا" اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑا بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جاوے ۔ آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے کہ لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا گو یا ان پر سحر کیا ہوا ہے وقت مقررہ گزر گیا مگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا ۔ آخر لوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود کا ختم کیا گیا۔ مخالف اور موافق سب نے بالاتفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالی کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی ۔ مگر اس زبر دست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کر دیا ۔ اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں۔ مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثرہ جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا ۔ اس صورت میں اس پیشگوئی کو جو اہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لا سکتا ہے ۔ - خواجہ صاحب کی احمدیت کے مغز سے نا واقفیت اس قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے احمدیت کے مغز کو نہیں پایا تھا اور ان کا احمدیت میں داخل ہونا در حقیقت اس احسان کا نتیجہ تھا جو حضرت مسیح موعود نے ان پر کیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمنوں کی طرف سے بعض مقدمات ہوئے ان میں خواجہ صاحب پیرو کار ہوتے تھے ۔ اس دوران میں بھی خواجہ صاحب نے بعض کمزوریاں دکھائیں ۔ جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ۔ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۹۱