انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 181

انوار العلوم جلد 4 ۱۸۱ آئینہ صداقت کئی قسم کے شکوک پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے مولوی محمد علی صاحب سے بیان کئے جس سے ان کے خیالات بھی خراب ہو گئے ۔ اسی وجہ سے اس قصہ کے مشابہ قصہ تیار کرنے کے لئے ان کو ظہیر الدین کا قصہ تیار کرنا پڑا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ کمال الدین عنا نہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں تو اس کو حق سمجھ کر ہی داخل ہوئے تھے۔ لیکن ان کے داخل ہونے کا یہ باعث نہ تھا کہ سلسلہ کی صداقت ان کے دل میں گھر کرگئی تھی ۔ بلکہ اصل باعث یہ تھا کہ وہ اسلام سے بیزار ہو کر مسیحیت کی طرف متوجہ ہو رہے تھے اور چونکہ اہل وعیال اور عزیز و اقارب کو چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں ان کا دل اس وقت سخت کشمکش میں تھا۔ ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے سامنے انہوں نے علیہ کی مسیحی پادریوں کو بھاگتے دیکھا تو ان کو اس کشمکش سے نجات ہوئی۔ اور ان کو اسلام میں بھی ایک الیسا مقام نظر آنے لگا جہاں انسان اپنا قدم جما کر مغربی علوم کے حملوں کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔ چونکہ یہ فائدہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل ہوا تھا وہ آپ کی جماعت میں شامل ہو گئے اور اس وقت خیال کر کے یہی کہنا چاہئے کہ بیتے دل سے داخل ہوئے اور واقع میں جس شخص کے ذریعہ سے انسان ایسے خطرناک ابتلاء سے بچے وہ اسے ہر ایک درجہ دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پس مسیح موعود کو خواجہ صاحب نے مانا تو نہی لیکن آپ کے دعوی کی صداقت کا امتحان کر کے نہیں بلکہ اس کے احسان سے متاثر ہو کر جو اسے مسیحیت سے بچانے اور اپنے رشتہ داروں کی جدائی سے محفوظ کر دینے کی صورت میں اس نے کیا یہ بات ظاہر ہے کہ ایسا تعلق دیر پا نہیں ہوتا ۔ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور خواجہ صاحب کی نظر سے وہ زمانہ او جھیل ہوتا گیا ۔ جب وہ سیحیت اور اسلام کے درمیان کھڑے تھے۔ اور ایک طرف تو مسیحیت کی دلفریب تعلیم انہیں نبھا رہی تھی اور دوسری طرف اپنے عزیز واقرباء کی جدائی ان ان کو کو خوف خوف دلا رہی تھی ان کا ایمان اور تعلق بھی کمزور ہوتا گیا۔ حتی کہ ڈپٹی آتھم کی پیشگی پیشگوئی کے وقت وہ مرتد ہوتے ہوتے بچے۔ میسج موعود کا مضمون برائے جلسہ منظم اور خواجہ صاحب میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعود کو بھی اس میں مضمون لکھنے کے لئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی پیغام لے کر آئے تھے ۔ حضرت مسیح موعود کو ان دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون کا لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا ۔ مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت