انوارالعلوم (جلد 6) — Page 175
انوار العلوم جلد 4 ۱۷۵ آئینه صداقت ثابت کر چکا ہوں ۔ مگر ہمارے پاس دلیل ہے کیونکہ لاوہ قرآن کریم کے صاف ارشاد کے حضرت خلیفہ اسی علی الاعلان اپنے نہ ماننے والوں پر فاسق کا فتویٰ لگا چکے ہیں۔ اور آپ لوگ ان کی بات کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاریخ اختلاف سلسلہ کا بارہواں امر بارہویں بات اختلاف سلسلہ کے متعلق مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ میں نے ایک تدبیر ایسی کر رکھی ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت کو اندھیرے میں رکھا ہے اور کہہ دیا ہے کہ کوئی احمدی ان سے تعلق نہ رکھے ۔ ان کے ساتھ مل کر کھانا نہ کھائے اور نہ ان سے کوئی دوستانہ گفتگو کرے اور ساتھ لیکر اور نہ نہ ان کی شائع کردہ کتاب یا رسالہ پڑھے اور اس وجہ سے میرے متبع ان دلائل سے نا واقف ہیں جن کے ذریعہ سے میرے ان عقائد کی جو مسیح موعود کے مخالف ہیں تردید کی جاتی ہے ۔ یہ آخری کڑی مولوی صاحب کے بیان کردہ واقعات اختلاف سلسلہ کی بھی ویسی ہی کمزور اور جعلی ہے جیسی کہ پہلی کیونکہ میں نے کبھی کسی مبائع سے نہیں کہا کہ وہ غیر مبالعین سے دوستی نہ رکھے اور ان سے مل کر کھاوے نہیں اور نہ ان کی کتاب پڑھے۔ یہ ایک جھوٹ ہے جو مولوی صاحب نے مجھ پر باندھا ہے ۔ اس کے برخلاف میں دیکھتا ہوں کہ 1910 میں جب عزیزم عبدالحی مرحوم ( ولد حضرت خلیفہ اول ) کی وفات پر مولوی صاحب معہ چند رفقاء کے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان کی دعوت کی اور مولوی شیر علی صاحب کو بھیجا کہ وہ ان کو بلا لائیں بلکہ اس سے بھی پہلے اسی سال میں مجھے لاہور برائے علاج جانے کا اتفاق ہوا ۔ تو میر کیا عین میں سے بعض نے مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کی دعوت کی مگر انہوں نے انکار کر دیا ۔ پھر ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان تشریف لائے اور سید سے مقبرہ بہشتی کو چلے گئے ۔ مجھے کسی نے اطلاع دی۔ میں نے ان کے بلانے کے لئے آدمی بھیجے اور پھر خود بھی گیا اور ان سے ملا اور ان سے ٹھہرنے کے لئے کہا۔ لیکن بوجہ ضروری کام کے انہوں نے عذر کیا۔ اسی طرح ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں غیر مبالعین پائے جاتے ہیں ان سے ملتے رہتے ہیں ۔ مگر بعض لوگ متضنی ہوتے ہیں اور شرارت پر آمادہ رہتے ہیں اور دھوکا رہی ان کا کام ہوتا ہے اور فساد کی وہ جستجو میں رہتے ہیں اور بد عقیدگی کے بانی اور اختلاف کے محرک ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے بیشک میری جماعت کے لوگ کنارہ کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے اپنی جماعت کے لوگوں کا ملنا بیشک میں ناپسند بھی کرتا ہوں مگر مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس مضمون کا اعلان کیا ہو۔ اور جبکہ مولوی محمد علی صاحب خود ہماری دعوت کو رد کر چکے ہیں تو پھر ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم پر الزام