انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 165

انوار العلوم جلد 1 ۱۶۵ آئینه صداقت لیکر اس وقت تک قریباً پچیس آدمی مولوی صاحب کے ہم خیالوں میں سے بیعت خلافت کر چکے ہیں اور ہم نے تو ان لوگوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں کی ۔ یہ لوگ تو اپنا تمام مال و اسباب ہمارے خلاف خرچ کرتے ہیں ۔ جہاں ہمارا واعظہ احمدیت کی تبلیغ کے لئے جاوے وہاں ان کا واعظہ ان کو ہم سے برگشتہ کرنے کے لئے بلکہ بہت دفعہ احمدیت سے ہی برگشتہ کرنے کے لئے جاتا ہے ۔ اگر ہم اس سے نصف وقت بھی ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے تو انشاء اللہ بہت زیادہ نتیجہ نکلتا مگر ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تر وقت اشاعت اسلام اور ترقی احمدیت پر خرچ ہونا چاہئے ۔ ہمارے واعظ تمام کے تمام غیر احمدیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ کے لئے وقف ہیں۔ جبکہ ان کے مبلغ قریباً تمام صرف احمدیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہم میں سے جس قدر ان میں جا کر ملے ہیں ان سے زیادہ ان میں سے نکل کر ہم میں آملے ہیں۔ مولوی صاحب چاہیں تو ہم اس کا ثبوت ان کو دے سکتے ہیں۔ مولوی حمد علی صاحب سے ایک اور رنگ میں طریق فیصلہ باقی رہا ان کا یہ کھنا کہ اکثر اہل علم لوگ میرے خیالات کے مخالف ہیں یہ ایک دعوی ہے جس کا ثبوت ان کے ذمہ ہے ۔ ہاں اگر یہ اصل مقرر کر لیا جاوے کہ جو ان کا ہم خیال ہے وہ عالم ہے اور دوسرے جاہل ۔ تب تو بے شک اکثر کیا سب کے سب اہل علم مجھے سے بیزار ہو کر ان سے جاملے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات نہیں تو پھر ان کا یہ دعوی درست نہیں کیونکہ جسقدر علم دین کے واقف لوگوں کو وہ پیش کر سکیں کہ وہ ان کے ہم خیال ہیں ان سے زیادہ لوگ میں پیش کرتا ہوں کہ میرے ہم خیال ہیں ۔ مگر یہ ایک بے ہودہ طریق بحث ہے جو حق کے ثابت کرنے کے لئے ضروری نہیں ۔ ہاں اگر ان کو شوق ہو تو اس رنگ میں بھی تعداد کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب کا ایک غلط خیال اور اس کی تردید مولوی صاحب کی تحریر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اہل علم لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں میرے خیالات کے مخالف ہیں لیکن اگر انہوں نے جان بوجھ کر ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ جن کا یہ مفہوم ہو تو میں کہوں گا کہ انہوں نے لوگوں کو غلطی میں ڈالنا چاہا ہے کیونکہ جولوگ میرے ساتھ ہیں۔ وہ سب کے سب عقائد میں مجھ سے متفق ہیں۔ اور اگر کوئی نادر کی طرح ہو تو اس کا مجھے علم نہیں۔ اور نہ نادر سند کے طور پر پیش ہو سکتا ہے ۔ ہاں وہ چند لوگ مستثنیٰ ہیں جو کہ کھلے طور مولوی صاحب کے ساتھ ملے ہوئے ہیں لیکن بعض مصالح کی بناء پر بیعت کے توڑنے کا اعلان نہیں کرتے ۔ وہ لوگ اپنے عمل سے اپنے منافق ہونے پر مر کر رہے ہیں۔ لیکن وہ بھی تعداد میں