انوارالعلوم (جلد 6) — Page xiv
انوار العلوم جلد 4 دعوت علماء تعارف کتب مارچ 9 ای میں قادیان کے غیر احمدیوں نے اپنا سالانہ جلسہ منعقد کیا۔ سیدنا حضرت خلیفہ البیع الثانی نے اس جلسہ پر آنے والے غیر از جماعت علماء کو تحقیق حق اور تبادلۂ خیالات کے لئے دعوت علماء کے عنوان سے ۲۵ مارچ کو ایک خصوصی پیغام تحریر فرمایا : حضور نے اپنے اس پیغام میں علماء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ ہمارا اختلف دنیادی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ۔ لہٰذا اس اختلاف کو اسی رنگ میں بٹانے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منشاء کے مطابق ہو۔ حضور نے علماء کو یہ مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے باہم فیصلہ کے درج ذیل تین طریق پیش فرمائے۔ اول یہ کہ یہ علماء حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو منہاج نبوت پر پر کھیں اور غور کریں کہ کیا جھوٹے آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کا سلوک نہیں ہوا کرتا ہے جو آپ سے ہوا اور کیا جھوٹے لوگ اسلام کی اسی طرح خدمت کیا کرتے ہیں جس طرح آپ نے کی ہے۔ علاوہ انہیں مدعی نبوت کی دعوئی سے پہلے کی زندگی اور اس کا کثرت سے غیب کی خبروں پر اطلاع پانا اور افتراء کرنے والے کا ناکام ہونا ان تمام امور پر قرآنی معیار کے مطابق حضرت مسیح موعود لیہ السلام سے دعاوی کی تحقیق کریں اور اگر اس طریق پر عمل کریں گے تو اللہ تعالی ان پر حق کھول دیا ۔ دوسرا طریق حضور نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر اس مندرجہ بالا طریق سے تسلی و تشفی نہ ہو تو پھر ایک جلسہ عام کیا جائے جس میں ایک نمائندہ ان علماء کی طرف سے ہوا اور ایک احمدیوں کی طرف سے ہو اور اختلافی مسائل پر تبادلہ خیال ہو جس کا اصل مقصد صرف مباحثہ و مناظرہ نہیں بلکہ حق کی تلاش ہو۔ تیسرا طریق یہ ہے کہ اگر یہ مندرجہ بالا صورت فیصلہ بھی منظور نہ ہو تو قرآن کریم کے حکم کے مطابق مباہلہ کر لیا جائے۔ تاکہ ان لوگوں کو جو قوت فیصلہ نہیں رکھتے ، فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔