انوارالعلوم (جلد 6) — Page 116
انوار العلوم جلد 4 114 آئینہ صداقت جو حالات سے ناواقف ہیں معلوم ہو جائے کہ ان لوگوں میں کہاں تک صداقت کا پاس کیا جاتا ہے ۔ کہاں تک یہ لوگ راستی سے پیار کرتے ہیں ۔ تاریخ اختلاف سلسلہ کا پہلا امر اس بات کا بیان کہ مسائل مختلف فیہ سب سے پہلی بات تاریخ اختلاف کے بیان کرتے کابانی ظہیر الدین نہیں ہو سکتا ؟ وقت مولوی صاحب نے یہ حریر فرمائی ہے کہ ان مسائل اختلافی کا بانی ظہیر الدین ہے جس نے اپریل * ہ میں نبی اللہ کا ظہور کتاب لکھ کر مسئلہ نبوت مسیح موعود کی بنیاد رکھی ۔ مگر ہمیں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب نے اس بیان میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ ظہیر الدین کیا ہستی رکھتا ہے کہ اسے مسیح موعود کی نبوت کا بانی کہا جاو سے کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت فرمایا تھا کہ آنے والا عیسی بن مریم نبی اللہ ہو گا ۔ اس وقت ظہیر موجود تھا۔ کیا ظہیر الدین نے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری کئے تھے ؟ کیا مسیح موعود کو جو یہ الہام ہوا تھا کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا ؟ یہ خدا تعالی کی طرف سے تھا یا ظہیر الدین کی کی طرف سے ؟ ظہیر الدین ایک حق سے دور اور صداقت سے معری اور خود پسند انسان ہے ۔ اسے ان پاک باتوں کی طرف نسبت دینا خدا تعالیٰ کے پاک کلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنگ کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟ میں پوچھتا ہوں : هَلْ كَانَ أَحَدٌ مِنَ الْأَحْمَدِ بَيْنَ عِنْدَ رَسُولِ ولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى بِنُبُوَّةِ الْمَسْحِ الْمُؤْهُودِ پھر خدا کے لئے اس بات کو تو دیکھو کہ میں ظہیر الدین کی کتاب سے بہت پہلے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا اعلان کر چکا ہوں۔ اگر ظہیر الدین نے اس عقیدہ کی بناء ڈالی ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس کی کتاب کے طبع ہونے سے پانچ سال پہلے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں میں نے کیونکر اپنے مضامین میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کا تذکرہ کر دیا اور خود مولوی محمد علی صاحب نے کیونکر میرے ان مضامین کو جن میں صاف طور پر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا اعلان تھا پسند کیا ۔ اور ان کو ایک نشان حضرت مسیح موعود کی صداقت کا قرار دیا۔ مولوی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور اپریل مد میں ختم ہوئی ہے اور لکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نشانہ کے آخر یا لا الہ کے ابتداء میں کبھی گئی ہوگی۔ یہ کتاب چھوٹی تقطیع کے ۲۰ صفحوں پر ہے ۔ اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں مسلم کتاب الفتن باب ذكر الدجال وصفته و ما معه * تذکره صفحه ۱۰۴- ایڈیشن چهارم