انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 114

انوار العلوم جلد 4 ۱۱۴ آئینه صداقت کرتا ہے جو نئے ہیں اس لئے اس کا احمدیہ جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر اس نے معافی مانگی۔ مگر یہ توبہ نبی نہ تھی۔ ۲۰ اپریل سالانہ کو اس نے ایک اور رسالہ نکالا جس میں احمدیوں کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ اس نے نیا کلمہ بنایا ہے اور جواب یہ تھا کہ اس نے اس الزام کو قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جماعت نے اس سے پھر قطع تعلق کر لیا اور و ہ ظاہر یہ کہاگیا تھا کہ اس کا جماعت سے علیحدہ کرنا خلافت کے دعویٰ کی وجہ سے ہے مگر چونکہ وہ خود خلافت کے دعویٰ سے منکر ہے اس لئے اس کا باعث ہی نئے عقائد ہیں ۔ گو اس کے ان رسائل کا جواب اس کو مخاطب کرکے تو نہیں دیا گیا مگر مختلف کتب و اخبارات میں اس کے ان خیالات کی تردید جماعت کے سنجیدہ لوگوں نے کردی ۔ شاہ میں مولوی سید محمد حسن صاحب نے مباحثہ رامپور کے متعلق جو نواب صاحب رامپور کے ایماء کے ماتحت آپ کے اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کے درمیان ہوا تھا۔ ایک کتاب لکھی ہے ۔ ہے۔ اس میں ہم صفحہ ۶۳ پر یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ بحث متعلق نبوت جزو یہ تابع نبوت کا ملہ اس ہیڈنگ کے نیچے انہوں نے لکھا تھا :۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کے لئے مل سکتی ہے۔ بعد ازاں اسی عالم بوڑھے نے تشحمید الا ذبان میں جس کے ایڈیٹ ایم محمود تھے۔ ایک مضمون جس کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروان میں نبوت“ تھا۔ لکھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس امت میں صرف نبوت جزئیہ مل سکتی ہے ۔ جس وقت ظہیر الدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا ایم محمود نے ان لوگوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت موعود کی بیعت نہ کی تھی اور کو ظاہر کیا گیا ہے کہ پیمضمون حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کو دکھا لیا گیا تھا ۔ مگر بعد میں جو اعلان خواجہ کمال الدین کی طرف سے مولوی صاحب کے دستخط سے شائع ہوا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا کیا مطلب سمجھا ۔ اس مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایم محمود کا مضمون اسی صورت میں قابل تسلیم ہے اگر اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتے وہ در حقیقت آپ کے کافر ہیں نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج ۔ ورنہ اس صورت میں تو یہ مضمون حضرت مسیح موعود کی تحریرات کے صریح خلاف ہو گا۔ سے ۔ -4 حضرت خلیفہ المسیح اول کی وفات کے قریب یہ سوال پھر نمودار ہوا اور سنہ کے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے منکر کا فر ہیں ۔ آپ کے اس فتوی کو بھی کہ غیر احمدی مام کے پیچھے احمدیوں کو نماز پڑھنی جائز ہے انہوں نے غلط ٹھرایا ۔ حالانکہ خود حج میں جو ان میں انہوں سته ضروری تقریب مباحثه رام پوری مؤلفه سید محمد احسن امروہوی مطبوعہ امر و به ۸ دسمبر ۱۹۰۹ء ۱۹۱۲