انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 89

انوار العلوم جلد 1 ۸۹ آینه صداقت مسیح موعود کے زمانہ میں احمدی ہونے والی جماعت سے مایوس ہو کر اب غیر ملکوں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں مگر یاد رکھئے کہ پہلے مسیح اور اس مسیح میں فرق ہے ۔ وہ موسوی سلسلہ کا خلیفہ تھا اور یہ محمدی سلسلہ کا خلیفہ ہے۔ پس جس طرح پہلے مسیح کی طرح دوسرا میچ سولی پر نہیں چڑھایا گیا ۔ اسی طرح پہلے مسیح کی جماعت ہیں پہلے سولی پر نہیں چڑھایاگیا۔ اسی کے خلاف اس مسیح کی جماعت بھی ہر ایک صداقت سے پھیر دینے والی تحریک سے محفوظ رہے گی۔ عت مون مولوی صاحب کی بدتمندی کرنے کے لیے ہیں اس بات پر ایو سنتے ہی نہیں ہوسکتا کہ بغیر نہیں K مولوی صاحب اپنی سخت کلامی کی عادت کو یہاں بھی چھوڑ نہیں سکے ۔ میرے مقابلہ میں اردو میں جسقدر اس کے لئے بطور نمونہ مشتے از خروارے مولوی محمد علی صاحب کے دو چار فقرے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں ۔ النبوة فی الاسلام کے صفحہ ۳۱۲ پر لکھتے ہیں :۔ " میاں صاحب کہتے ہیں۔ ماں باپ نے آنحضرت کا نام احمد نہیں رکھا تھا۔ اول تو یہ جھوٹ ہے مسیح موعود نے خود اسے تسلیم کیا ہے ؟ " پھر یہ حض جھک مارتا ہے کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہیں اور پھر صفحہ ۳۱۹ پر لکھا ہے ۔ حقیقۃ النبوۃ میں یہ جھوٹ بولا کہ مجھے اس وقت بھی علم تھا یہ کہ " گویا آپ بحث چھڑنے کے ڈر سے بھی جھوٹ لکھ دیا کرتے تھے ، لکھ دیا کرتے تھے " اور یہ کہ " ایک جھوٹ بول کر اپنے آپ کو غلطی سے پاک کرنا چاہا اور رسالہ تبدیلی عقیدہ کا الزام بجواب مولوی محمد علی صاحب کی تبدیلی عقیدہ) میں لکھتے ہیں :۔ " میاں صاحب اور ان کے مریدین نے ۔۔۔ آتم اور اظلم بننے کو آسان سمجھا۔ مگر شہادت حضہ کی ادائیگی کو موت سے بدتر سمجھ کر اس کے ادا کرنے سے انکار کیا ۔۔۔۔۔ ان سیاہ باطن ظالموں نے اتنا بھی نہ دیکھا ۔۔۔۔ یہ گروہ ان ہی کا جانشین پیدا تو نہیں ہو گیا ۔ جن کو تم کل تک مشر من فِي الْأَرْضِ کہتے تھے ۔ ان کو رباطنوں کو جو خادمان دین کو مرتد کے نام سے پکارتے ہیں۔ بلا کر پوچھو کہ ایک شخص کے علانیہ اقرار کے ہوتے ہوتے ہو۔ ہوئے تمہارا ایسی جرات کرنا تمہیں خدا کی لعنت کا مور د بنائے گا یا نہیں" "اگر پیر سچا ہے تو یہ گروہ دنیا کو دھوکا دینے والا قرار پاتا ہے ۔ اور اگر اس گروہ کا مذہب وہی تھا۔ جو دین الحق میں لکھا ہے۔ تو پیر باطل کا حامی ہے ؟ آج ان باتوں سے انکار کرنا ان کی سیاہ روی کا موجب ہی نہیں ۔ بلکہ قریب ہے کہ اس انکار پر اصرار کر کے انکے دل سیاہ ہو جائیں اور وہ خدا کی لعنت کے نیچے آجائیں اور كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ کا مصداق ثابت ہوں پھر مولوی محمد علی صاحب اپنے رسالہ مرآة الحقیقت میں میرے متعلق لکھتے ہیں : " وقت پر بازی لے جانے کے لئے آپ ان امور کی قدر اتنی ہی کرتے ہیں۔ جیسے ایک تاش کھیلنے والا تاش کے پتوں کی قدر کرتا ہے ۔ صفحہ ۷۹ پر اور لکھتے ہیں۔ میں نے دکھانا صرف یہ ہے کہ آپ اپنی غرض کے لئے کیا کیا کچھ کر لیتے ہیں ۔ شاید ان لوگوں میں جن کو شَر مَن تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ہم قرار دیتے ہیں ایسی جرات کر نیوالے کم ہی ہونگے ؟