انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 67

انوار العلوم جلد ۵ 42 صداقت اسلام ہمارے زمانہ میں خدا کا ایک محبوب پس اسلام میں بہت سے ایسے بزرگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے محبوب تھے۔ اور اس زمانہ میں تھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص محبوب گزرا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے مفاسد کو دیکھ کر اور خدا تعالٰی سے لوگوں کا بعد اور بے رخی پا کر ایک انسان بھیجا جس نے اسلام کی خدمت کی اور اسلام کی سچائی ثابت کی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بد سے بدتر قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ سو سال تک دنیا سے مٹ جائے گی ۔ اس وقت خدا تعالیٰ کی غیرت جوشش کہ مسلمان جوں جوں میں آئی اور اس نے کہا کون ہے جو محمد صلی اللہ علیہ سلم کی تعلیم کو مٹا سکے پس ایسے زمانہ ہیں میں جبکہ ا سلام غریب ہو چکا تھا اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام بلحاظ تعلیم یا بلحاظ اس کے کہ سائنس اور علوم کی ترقی کی وجہ سے اس پر نئے نئے اعتراض کئے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ قرآن میں ایسی باتیں درج ہیں جو خلاف عقل ہیں پھر جو علم نکلتا اسلام پر حملہ آور ہوتا ۔ ڈارون تھیوری نکلی تو اس کے ذریعہ اسلام پر حملے کئے گئے جیالوجی کے رو سے اسلام کو ہدف اعتراضات بنایا گیا۔ اسٹرانومی کے ذریعہ اسلام میں نقص نکالے گئے۔ غرض ہر علم کی تحقیقات کا یہی نتیجہ بنایا گیا کہ اسلام نقصوں اور غلطیوں سے پر ہے اور کسی علم کے مقابلہ پر بھر نہیں سکتا ۔ اس وجہ سے صاف طور پر کہ دیا گیا کہ کہ علوم سے واقف ہوتے جائیں گے خود بخود اسلام کو چھوڑ دیں گے اور یہ خیال ایسا وسیع ہوا کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے کہہ دیا کہ اسلام کی اصلاح ہونی چاہئے اور زمانہ حال کے مطابق اس کی تعلیم کو بنانا چاہئے ۔ جب یہ حالت ہو گئی تب وہ خدا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ تو میرا ایسا پیارا اور محبوب ہے کہ تیرے غلام بھی میرے محبوب ہو جائیں گے۔ اس خدا کی غیرت جوش میں آئی اور اس کی محبت فوارے کی طرح پھوٹی ۔ اس نے اسلام کی عزت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے کے لئے ایک ایسے انسان کو کھڑا کر دیا جو کیا بلحاظ شان و شوکت اور کیا بلحاظ مال و دولت اور کیا بلحاظ شہرت و عزت دنیا میں کوئی حقیقت نہ رکھتا تھا اور کہا کہ میں اس کے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کو قائم کروں گا اور دنیا میں پھیلا دوں گا۔ پس خدا تعالیٰ نے ایسے نازک اور پر خطر زمانہ میں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ایک دروازہ کھولا اور قادیان سے اس شخص کو چنا اور ایسے کہا کہ چونکہ تونے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی علمی کا جوا اپنی گردن میں پوری طرح ڈالا ہے اس لئے میں تجھے اسلام کی خدمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے لئے کھڑا کرتا ہوں۔ مرا