انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 66

انوار العلوم جلد ۵ 44 صداقت اسلام دل میں پیدا ہوسکتی ہے بلکہ یہ تعلیم بھی دیتا ہوں کہ خدا کو تمہاری محبت پیدا ہو جائے ۔ پس اسلام یہی نہیں کہتا کہ تم نیک بن جاؤ بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ میری تعلیم پر عمل کر کے تم ایسے بن سکتے ہو کہ خود خدا تمہیں بلائے اور گئے کہ تم میرے محبوب ہو۔ پھر اسلام میں نہیں کہتا کہ مرنے کے بعد تمہیں پتہ لگے گا کہ اسلام ستیا مذہب ہے بلکہ اسی دنیا میں ثبوت دیتا ہے کہ تم سیدھے راستہ پر ہو اور وہ اس طرح کہ فرماتا ہے ۔ اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) کہ آؤ اسی دنیا میں خدا کے محبوب بن جاؤ ۔ محبوب کے یہ معنی ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف ہو تو محبت اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کر کے اُسے تسلی دے ۔ اس کو کوئی شخص اپنا محب نہیں سمجھ سکتا جو یہ کہے کہ مجھے فلاں سے محبت ہے اور فلاں میرا محبوب ہے۔ لیکن جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کی کوئی مدد نہ کرے تو خدا تعالیٰ کے محبوب ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جب وہ دکھ اور تکلیف میں ہو تو خدا اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کر ہے ۔ اسلام میں خدا سے کلام کرنے کا دروازہ کھلا ہے اس کے ماتحت جب ہم دیکھتےہیں جب تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کا دروازہ کھلا بتاتا ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے - اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (سوره فاتحہ ، کہ اسے مومنو! تم ہمیشہ یہ دعا کیا کرو کہ اسے کہ اسے تم ہمیشہ خدا ہمیں سیدھا رستہ دکھا۔ یعنی وہ رستہ جس پر چل کر پہلے لوگ خدا تک پہنچے ہیں اور خدا تعالیٰ ما یعنی وہ انہیں یقین دلاتا رہا ہے کہ تم مجھ تک پہنچ گئے ہو۔ اسلام کی دیگر مذاہب پر فضیلت یہ بین فرق ہے اسلام اور دریا ہے اسلام اور دیگر مذاہب میں اخلاقی تعلیم میں مذاہب کا آپس میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے ۔ ہر ایک مذہب بڑے کام کرنے سے روکتا اور اچھے کام کرنے کی تلقین کرتا ہے بیگن اسلام کہتا ہے کہ اسی دنیا میں تم کو معلوم ہو جائے گا کہ تم خدا کے مغرب اور محبوب بن گئے ہو۔ چنانچہ اس کا ثبوت اسلام میں ملتا ہے کیونکہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ آتے رہتے ہیں جنہوں نے دعوی کیا ہے الے کہ خدا تعالیٰ کو انہوں نے دیکھا اور خدا ان سے کلام کرتا ہے ۔ چنانچہ حضرت معین الدین چشتی ، حضرت محی الدین ابن عربی، حضرت جنید بغدادی اور اور بہت سے بزرگ اسلام میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل میں خدا کی محبت پیدا کی اور خدا تعالیٰ نے بھی ان سے محبت کی اور انہیں اپنی محبت کا جبہ پہنایا ان کی ہر تکلیف کو اس نے خود دور کیا اور ہر مشکل وقت میں انکی مدد کی۔