انوارالعلوم (جلد 5) — Page 48
انوار العلوم جلد ۵ 27 صداقت احمدیت شخص ڈوئی اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لاتے ہوئے اسلام کو مٹانے اور عیسائیت کو پھیلانے آیا ہوں ۔ اس کو للکارتا ہے کہ آمجھ سے مقابلہ کر اور دیکھ کہ اسلام غالب آتا ہے یا عیسائیت ۔ یہ سن کر وہ کہتا ہے کہ اس کی طاقت ہی کیا ہے میں اسے موری کے کیڑے کی طرح مسئل دوں گا ۔ گا ۔ اس کے جواب یا اب میں وہ انسان کہتا ہے کہ خدا تجھے ذلیل اور رسوا کرے گا اس پر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ڈوٹی کا باپ اعلان کرتا ہے کہ یہ حرام کا لڑکا ہے۔ پھر اس کے بیوی بچے الگ ہو جاتے ہیں اور اس کی برائیاں اور بدکاریاں دنیا میں ظاہر کرتے ہیں۔ پھر اس پر فالج کرنا اور ذلت اور رسوائی کی موت سے مرتا ہے جس پر عیسائی اخبار لکھتے ہیں کہ عیسا تیبت کے پہلوان پر اسلام کا پہلوان غالب آگیا ۔ تو وہ شخص جو اسلام کے دشمنوں ۔ کے سامنے اس سے ا سینہ سپر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ بعد از خدا بعشق محمد محترم گر گھر این بود بخدا سخت کا فرم وہ اگر نعوذ باللہ دجال ہے تو پھر مسلمان کون ہو سکتا ہے ؟ وہ تو خود کہتا ہے کہ اگر خدا کے بعد تو خود کہتا ہے کہ خا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گھر ہے تو خدا کی قسم میں سب سے بڑا کافر ہوں ۔ کیونکہ میں سب سے لکہ وہ اسلام جس سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تنگ ہوتی ہو اس سے یہ گھر مجھے ہزار درجہ پسند ہے جس سے آپ کی عزت اور عظمت ثابت ہوتی ہے ۔ اور سچائی معلوم کرنے کا طریق پس اس کی صداقت معلوم کرنے کے لئے اس کے کاموں ، اس کے ماننے والوں کے کاموں کو دیکھنا چاہتے کہ وہ کیا کرتے یں آیا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسم کو گالیاں دیتے ، اسلام کو ذلیل کرتے ہیں یا دنیا کے چاروں کونوں میں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پہنچانے میں لگے ہوتے ہیں ۔ گو اس وقت ہماری جماعت دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے اور مالی حالت بھی کمزور ہے مگر ہم نے مختلف ممالک میں اپنے مبلغ بھیجے ہوتے ہیں۔ اور ہر ایک آدمی جس قدر دین کی خدمت کر سکتا ہے اس میں لگا ہوا ہے اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا میں نے لندن میں مسجد بنانے کے لئے ایک لاکھ کی تحریک کی تھی جس میں اس وقت تک ۹۲ ہزار کے قریب روپیہ جمع ہو گیا ہے ۔ پس اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے جو ہم اور دوسرے لوگوں میں پایا جاتا ہے یہ دیکھنا