انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 593

انوار العلوم جلد ۔ ۵۹۳ ہدایات زریں چھوڑ دیا۔ یہ چونکہ جنگی لحاظ سے ایک مقابلہ تھا۔ اس لئے آپ الگ ہو گئے ورنہ ایسی باتیں جو تفریح کے طور پر ہوتی ہیں ان میں آپ شامل ہوتے تھے۔ چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ گھوڑ دوڑ میں آپ نے بھی اپنا گھوڑا دوڑایا ۔ اس قسم کی باتوں میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ غرض مبلغ کو بھی ایسی باتوں میں کسی فریق کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے جو مقابلہ کے طور پر ہوں اور بالکل الگ تھلگ رہ کر اس بات کا ثبوت ساتھ دینا چاہتے کہ اس کے نزدیک دونوں فریتی ایک جیسے ہی ہیں۔ چودہویں بات یہ ضروری ہے کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ میرا چودہویں ہدایت علم کامل ہو گیا ہے بہت لوگ سمجھ لیتےہیں کہ ہمارا عل مکمل ہوگیا ہے اور ہیں اور کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ علم کبھی عمل نہیں ہو سکتا۔ میں تو علم کی مثال ایک ریسند کی سمجھا کرتا ہوں جس کے آگے دو رہتے ہو جائیں پھر اس کے آگے دو ہو جائیں اور پھر اس کے آگے دور اسی طرح آگے شاخیں ہی شاخیں نکلتی جائیں اور اسی طرح کئی ہزار رستے بن جائیں۔ یہی حال علم کا ہوتا ہے۔ علم کی بیشمار شاخیں ہیں اور اس قدر شاخیں ہیں جن کی انتہاء ہی نہیں پیس علم کا خاتمہ شاخوں کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس کا خاتمہ جڑ کی طرف ہے کہ وہ ایک ہے اور وہ ابتداء ہے جو جہالت کے بالکل قریب ہے ۔ بلکہ جہالت سے بالکل ملی ہوئی ہے ور نہ آگے جوں جوں بڑھتے جائیں اس کی شاخیں نکلتی آتی ہیں اور وہ بھی ختم نہیں ہو سکتیں اگر کسی نے ایک شاخ کو ختم کر لیا تو اس کے لئے دوسری موجود ہے۔ غرض علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور روحانی علوم کی تو قطعا کوئی حد ہے ہی نہیں ۔ ڈاکٹری کے متعلق ہی کسی قدر علوم ون بدن نکل رہے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پس کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا ۔ اور جہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ علم ختم ہو گیا ہے وہاں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ علم کے درخت سے اتر کر جہالت کی طرف آگیا ہے ہیں کبھی یہ مت خیال کرو کہ ہمارا علم کامل ہوگیا۔ کیونکہ ایک تو یہ جھوٹ ہے کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔ دوسرے اس سے انسان متکبر ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگنا مریم شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر انسان ہر وقت اپنے آپ کو طالب علم سمجھے اور اپنے علم کو بڑھا تا ر ہے تو اس کے دل پر زنگ نہیں لگتا۔ کیونکہ جس طرح چلتی تلوار کو زنگ نہیں لگتا۔ لیکن اگر اسے یوں ہی رکھ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔ پیس ہر وقت اپنا علم بڑھاتے رہنا چاہئے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا ۔