انوارالعلوم (جلد 5) — Page 592
انوار العلوم جلد ۵ ۵۹۲ ہدایات زریں دماغ میں پیدا کرنی چاہئے اور پھر نوٹ لکھنے چاہیں میں ایسا ہی کرتا ہوں اور اس وقت جو کچھ خدا تعالیٰ لکھاتا جاتا ہے وہ لکھتا جاتا ہوں۔ پھر ان میں اور باتیں بڑھالوں تو اور بات ہے ۔ اسی سالانہ جلسہ پریکچر کے وقت ایک اعتراض ہوا تھا کہ فرشتوں کا چشمہ تو خدا ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے اور وہ اس چشمہ سے لے کر آگے پہنچاتے ہیں۔ مگر شیطان کا چشمہ کیا ہے اس اعتراض پر دس پندرہ منٹ کی سے لے کر پہنچاتے ہیں گر شیطان کا چشمہ کیا ہے اس اعتراض تقریر میرے ذہن میں آئی تھی اور میں وہ بیان ہی کرنے لگا تھا کہ یک لخت خدا تعالیٰ نے یہ فقرہ میرے دل میں ڈال دیا کہ شیطان تو چھینتا ہے نہ کہ لوگوں کو کچھ دیتا ہے اور چھینے والے کو کی ذخیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایسا مخصر اور واضح جواب تھا کہ جسے ہر ایک شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا۔ لیکن جو تقریر کرنے کا میں نے ارادہ کیا تھا وہ ایک تو لمبی تھی اور دوسرے ممکن تھا کہ علمی لحاظ سے وہ ایسی مشکل ہو جاتی کہ ہمارے دیہاتی بھائی اسے نہ سمجھ سکتے۔ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ بہت جامع اور نہایت زود فہم ہوتا ہے اور اس کا اثر جس قدر سننے والوں پر ہوتا ہے اتنا کسی لمبی سے لمبی تقریر کابھی نہیں ہوتا ہیں تم یہ حالت پیدا کرو کہ جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو تو بالکل خالی الذہن ہو اور خدا تعالیٰ پر تمہارا سارا مدار ہو۔ اگر چہ یہ حالت پیدا کر لیا ہرایک کا کام نہیں ہے اور بہت مشکل بات ہے۔ لیکن ہوتے ہوتے جب اس کی قابلیت پیدا ہو جائے تو بہت فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے ۔ تیرہویں ہدایت تیر ہیں بات مبلغ کے لئے یہ ضروی ہے کہ وہ کی پارٹی میں اپنے آپ کو داخل نہ سمجھے ۔ بلکہ سب کے ساتھ اس کا ایک جیسا ہی تعلق ہو۔ یہ بات کن ھے کہ سب کے ساتھ اس کا ایک جیسا ہی تعلق صحابہ میں بھی ہوتی تھی کہ کسی سے محبت اور کسی مناسبت کی وجہ سے زیادہ تعلقی ہوتا تھا اور وہ د تھا اور وہ دوسروں کی نسبت آپس میں زیادہ تعلق رکھتے تھے۔ اور ہم میں بھی اس طرح ہے اور ہونی چاہئے لیکن جو بات بڑی ہے اور جس سے مبلغ کو بالا رہنا چاہتے یہ ہے کہ وہ کسی فریق میں اپنے آپ کو شامل کرلے ۔ ہر ایک مبلغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مل ہے اور نظل وہی ہو سکتا ہے جس میں وہ باتیں پائی جائیں جو اصل ہیں تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نکلے تو دیکھا کہ دو پارٹیاں آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں آپ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک کے ساتھ ہو کر تیر مارنے لگے اس پر دوسری پارٹی نے اپنی کمانیں رکھ دیں اور کہا ہم آپ کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اس پر رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لو۔ میں دخل نہیں دیتا۔ چونکہ آپ سب کے ساتھ ایک ہی تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے آپ کو مد مقابل بنانے کے لئے صحابہ تیار نہ ہوئے ۔ اور اس بات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر کے دخل دینا بخاری ۔ كِتَابُ الجهاد و السير باب التحريض على الرمي و قول الله تعالى ۔۔۔۔۔۔ الخ