انوارالعلوم (جلد 5) — Page 551
انوار العلوم جلد ۵ 100 کیونکہ ملائکہ کی طرف سے حسن ظنی کا ہی خیال ڈالا جاتا ہے مگر شیطانی تحریک میں لوگوں کے عیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور اس طرح یہ خیال پیدا کیا جاتا ہے کہ فلاں میں یہ عیب ہے فلاں میں یہ عیب ہے لیکن میں بڑا ولی ہوں عیسائیوں کی طرح کہ وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم ، موسی ، داؤد غرضیکہ سب نبی گنہگار تھے اس لئے مشیح کا درجہ ان سب سے بڑا ہے مگر یہ ایسی ہی مثال ہے جس طرح کوئی کہے کہ فلاں فلاں جو مردہ پڑے ہیں میں ان کی نسبت زیادہ طاقتور ہوں ۔ ایسا ہی خیال شیطان پیدا کرتا ہے کہ لوگوں کو حقارت سے انسان کی نظر میں گرا کر اسے یہ خیال پیدا کرا دیتا ہے کہ میں بہت بڑا ہوں ۔ اور اس طرح عجب اور تکبر پیدا کر کے اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔ اور اسے ہلاک ا دیتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیکیوں میں موازنہ کا فرق نہیں ہوتا ۔ یعنی کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے قربان کرا دیتا ہے ۔ مگر کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ نیکیاں تو ایک ہی جیسی ہوتی ہیں لیکن وہ ایک ہی کی طرف رکھتا ہے اور دوسری نیکی کو بالکل چھڑا دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو تبلیغ کرتا ہے اسے شیطان تحریک کرے گا کہ چندہ دینے کی تمہیں کیا ضرورت ہے ایک کام جو کرتے ہو۔ یا جو چندہ دے گا اسے کہے گا تبلیغ کرنا ضروری نہیں چندہ جو ہو ۔ مگر فرشتہ میں کہتا ہے کہ تبلیغ کرنا بھی نیکی ہے اسے بھی کرو اور چندہ دینا بھی نیکی ہے ہے اسے بھی بجا لاؤ۔ جو دے دیتے آٹھویں بات یہ ہوتی ہے جو بڑی خطرناک ہے کہ جب انسان کوئی نیکی کرنے لگتا ہے اور ایسا انسان ادنیٰ درجہ کا ہوتا ہے اعلیٰ درجہ کا نہیں ہوتا تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ ریاء کے طور پر کرتا ہے اس لئے کرنا ہی نہیں چاہئے ۔ مثلاً ایسا شخص جب مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے لگے گا تو شیطان اس کے دل میں ڈال دے گا کہ لوگ تجھے دیکھیں گے اور کہیں گے یہ بھی نمازی ہے اور اس طرح ریاء ہو جائے گا اس لئے مسجد میں جانتا ہی نہیں چاہئے اس طرح شیطان نماز با جماعت سے روک دے گا۔ لیکن ملائکہ کی طرف سے جو تحریک ہوتی ہے اس میں شریعت کے ادب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ایسی شیطانی تحریکوں پر مومن کو چاہئے کہ اپنے نفس سے کہے کہ چاہے لوگ کچھ کہیں ہیں تو شریعت کے حکم کو ضرور بجا لاؤں گا اور اس قسم کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کرے اور خدا تعالیٰ کا جو حکم ہوا سے بجا لائے ۔ ان صورتوں میں یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ مؤمن کا طریق یہی ہے کہ وہ ایسی تمام صورتوں میں یہ احتیاط کر لیا کرے کہ حسن نیکی میں دیکھے کہ اس کی توجہ نہیں پیدا ہوتی اس کی وجہ شیطانی