انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 549

انوار العلوم جلد ۔ ۵۴۹ ملا حكمة الله نہ کی جائے ۔ مثلاً ذکر ہے اس کے متعلق اگر کی مولوی سے پوچھا جائے گا تو وہ کہے گا کہ اچھا ہے ۔ مگر یہ کہ نفل پڑھنے اس کے لئے چھوڑ دئے جائیں۔ یہ اس کے اپنے دل کی بات ہوگی ۔ اس کا فیصلہ اس کا دل ہی کر سکے گا۔ یا مثلاً کوئی کہے کیوں جی ! کسی کی خاطر داری یا کسی کو تحفہ دینا کیسا ہے ؟ ایک عالم یہی جواب دے گا کہ اچھی بات ہے۔ لیکن اگر اس تحفہ کا مطلب وہ اپنے دل میں کسی کو رشوت اور ڈالی رکھ لے تو گو اس کو فتویٰ مل گیا کہ جائز ہے لیکن اس کی جو نبیت اس فتویٰ کے حاصل کرنے کے وقت تھی اس کو اس کا دل ہی جانے گا اس وقت اسے اپنے دل کی بات کو ہی ماننا چاہئے جو کہہ رہا ہو گا کہ یہ نا جائز ہے ۔ فتوی کو نہیں ماننا چاہئے ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواہ کوئی فتوی دے دے کہ فلاں بات کر لو لیکن اگر اپنے دل میں اس کا کوئی بد پیلو پیدا ہو تو اسے نہیں کرنا چاہئے اور چھوڑ دینا چاہئے ۔ ملکی اور شیطانی تحریک میں تیسرا فرق یہ ہے کہ ملک کی تحریک میں ترتیب ہوتی ہے وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بچہ کو ماں پہلے اٹھا کر چلتی ہے ۔ پھر اسے پکڑ کر چلاتی ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ بچہ چلنا سیکھ جاتا ہے۔ لیکن شیطانی تحریک کی یہ مثال ہوگی کہ جس طرح دشمن بچہ کو اُٹھا کر پھینک دے۔ یا پھر ملکی اور شیطانی تحریک کی مثال یہ ہے کہ جو استاد لڑکے کا خیر خواہ ہو گا وہ تو اسے اب شروع کرائے گا اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کراتا جائے گا۔ لیکن اگر دشمن استاد ہو گا تو پہلے ہی ایسا مشکل سبق پڑھائے گا کہ لڑ کا اکتا کر بھاگ جائے گا۔ تو ملکی تحریک درجہ بدرجہ ہو گی یکدم کسی بات کا بوجھ انسان پر نہیں آپڑے گا اور کسی امر میں جلدی نہیں کرائی جائے گی۔ لیکن جب ایسا نہ ہو یکلخت کوئی بوجھ پڑتا ہو اور جلدی کی تحریک ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ملکی تو سمجھ نہیں بلکہ شیطانی تحریک ہے۔ مثلاً شیطان اس طرح تحریک کرے گا کہ آج ہی ولی بن جاؤ اور اس کے لئے سارا دن نماز پڑھو اور تمام سال روزے رکھو لیکن اگر کوئی اس پر عمل کرے گا۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اکتا کر اور بد دل ہو کر نمازہ اور روزہ کو بالکل ہی چھوڑ دے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بعض لوگ ساری رات مسجد پڑھتے رہتے اور دن کو روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے اس کو پسند نہ کیا اور فرمایا یہ نیکی نہیں ہے کہ اس طرح تم دوسروں کے حقوق جو تم پر ہیں مارتے ہو ۔ نیکی ہی ہے کہ انسان تدریجی کام کرے ۔ پہلے ایک قدم اُٹھائے، پھر دوسرا اور پھر تیرا یہ ملکی تحریک کی علامت ہوتی ہے۔ اور شیطانی تحریک یکدم ایک کام کرانا چاہتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو پہلے کچھ بھی دین کے لئے پندہ نہیں دیتا اسے تحریک ہو کہ میں اگلے مہینے سارا مال چندہ میں دے دوں گا۔ تو چونکہ یہ اس کی حقیقی عه بخاری کتاب التهجد باب ما يكره من ترك قيام الليل لمن كان يقومه