انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 503

انوار العلوم جلد ۵ ۵۰۳ ملائكة الله دسواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ قوانین نیچر کی آخری علت ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ سبب ملائکہ کے اثر کے ذریعہ سے ہو رہا ہے ۔ مثلاً بارش برستی ہے ، ہوا چلتی ہے سورج کی شعائیں پہنچتی ہیں ، زہر اثر کرتا ہے ، تریاق اثر کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب کچھ ملائکہ کے اثر کی وجہ سے ہو رہا ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو ان کے اثر کے بغیر اثر کر سکتی ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زہر بجائے خود زہر نہیں ہے اور تریاق اپنی ذات میں تریاق نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک کے ماتحت زہر ہے جب تک وہ زہر کو اجازت نہ دے وہ اثر نہیں کر سکتا ہے اور جس کے ما تحت تریاق ہے جب تک وہ حکم نہ دے تریاق اثر نہیں کر سکتا اور ہر چیز کے متعلق کی بات ہے چنانچه قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ذکر آتا ہے کہ بارشیں برسانا ، آندھیاں لانا اور دوسرے کئی کام ملائکہ کے سپرد ہیں۔ یہ ایک لمبا سلسلہ ہے اور بیسیوں مثالیں اس قسم کی مل سکتی ہیں اور کھلی کھلی پندرہ میں شالیں تو مل جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ قانون قدرت کے مختلف شعبوں کو پورا کر رہے ہیں ۔ اگر چہ چند ایک مثالیں جو کھلی کھلی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے یہ لیکن اگر کوئی کہے کہ ان کی وجہ سے سب باتوں کے متعلق کسی طرح قیاس کیا جا سکتا ہے ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ قیاس يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ سے ہو سکتا ہے کہ ملائکہ ہی خدا کی سب صفات کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ہیں۔ گیارہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ استغفار ہی نہیں کرتے کہ لوگوں کے گناہ معاف کئے جائیں بلکہ دعائیں بھی کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ اپنے بندوں پر برکتیں نازل کرے ۔ استغفار کرنے کے تو یہ معنے ہیں کہ انسانوں سے جو غلطیاں ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے مگر وہ دعائیں کرتے ہیں کہ خدا اپنی رحمت نازل کرے ۔ چنانچہ آتا ہے :- إِنَّ اللَّهَ وَ مَثْئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى السَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب : ٥٠ ) یہ فرشتے خدا کی رحمت کے ماتحت ہوتے ہیں جب کوئی شخص خدا کی راہ میں کام کرتا ہے تو لائکہ اس پر خدا کی برکت نازل ہونے کی دُعائیں کرتے ہیں وہ خود تو برکت نہیں دے سکتے اس لئے خدا سے ہونے دعائیں کرتے ہیں کہ فلاں پر برکت نازل کرے ۔ ان کا درود ایسا ہی ہوتا ہے ۔ جیسے ہمارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتا ہے کہ ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی برکت نازل کرے ۔ اسی طرح وہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ خدایا اپنے اس بندے پر رحم کر ۔ خدا تعالیٰ