انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 481

انوار العلوم جلد ۵ ۴۸۱ ملا نہیں تو ان کی تعلیم اس سے جاتی رہے گی اگر قرآن کے متعلق کہوں گا کہ خدا کا کلام نہیں تو اس کی تعلیم علیم کو جواب دینا پڑے گا لیکن اگر یہ کہ دوں کہ فرشتے نہیں تو کیا نقصان ہو گا ؟ لوگوں کو ملائکہ کے متعلق جو ایمان ہے وہ ننانوے فیصدی لوگوں میں اتنا کم ہے کہ اگر اس کی نفی کر دی جائے تو ان کے موجودہ ایمان میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور ان کے ماننے کی وجہ سے کردی ان کے ایمان میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی ۔ حالانکہ ہر ایک ایمانی مسئلہ کے یہ معنے ہیں کہ وہ بہت بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس کے فائدے بھی بہت بڑے ہیں اور اس کو ترک کرنے کے نقصان بھی بہت بڑے ہیں۔ نہ یہ کہ صرف منہ سے کہ دیں کہ فلاں بات ہم نے مان لی تو کافی ہو جاتا ہے ۔ ورنہ نہ اس منہ کہہ کے ماننے سے کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ انکار کرنے سے کوئی نقصان ۔ اس طرح تو ہم ہمالیہ پہاڑ پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ مگر چونکہ ہمالیہ پر ایمان لانے سے نہ کوئی نفع ہے اور نہ اس کا انکار کرنے سے نقصان اس لئے اسے ایمانیات میں داخل نہیں کیا گیا۔ مگر ملائکہ پر ایمان لانے کو ایمانیات میں داخل کیا گیا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ان پر ایمان لانے سے بہت بڑا فائدہ ہو اور نہ ایمان لانے سے نقصان ۔ فرشتوں پر کیوں ایمان لائیں غرض یہ ایک نہایت ضروری سوال ہے کہ فرشتوں کو کیوں مانیں ؟ ان کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ان ن ن سے ہمیں کیا فائدہ پہنچتا ہے ؟ اگر ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر کوئی کہے کہ سول کریم صلی الہ علیہ ہم پر فرشتے تعلیمی اسے اس لئے ایمان لانا چاہتے تو کہا جا سکتا ہے کہ پھر ہمیں ان سے کیا تعلق ؟ اگر ان کی معرفت وحی کا آنا ہمیں معلوم نہ ہو تو ہمارے ایمان اور ہمارے عمل میں کیا کمی آ جائے گی ؟ اگر یہی فرض کر لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام بلا واسطہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرماتا تھا تو اس سے ک اللہ تعلی اپنا بلا واسطه صلی اللہ علیہ کے دل نازل فرماتا تھا تو کیا حرج واقعہ ہوگا ؟ اس سے قرآن کریم میں تو کوئی کمی نہیں آجائے گی پھر ہم سے فرشتوں کا وجود کیوں منوایا جاتا ہے ؟ اور اتنے زور سے کیوں منوایا جاتا ہے ؟ کہ اگر نہ مانیں تو مسلمان ہی نہیں رہتے کافر ہو جاتے ہیں ۔ اس قسم کے کے : خیالات کی وجہ سے پیمضمون مشکل بھی ہے اور شاید بہتوں کے لئے پھیکا بھی ہو اور ان کی توجہ اس طرف قائم نہ رہے۔ کیونکہ فرشتے ایسی چیز ہیں جو نظر نہیں آتے اور ان سے بظاہر کوئی تعلق بھی نہیں معلوم ہوتا مسئلہ تقدیر بھی مشکل تھا۔ لیکن جب اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ