انوارالعلوم (جلد 5) — Page 29
انوار العلوم جلد ۵ ۲۹ صداقت احمدیت جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی نے مجنوں کو کہا تھا کہ پیلی کوئی خوبصورت عورت نہیں ہے اس سے اعلیٰ درجہ کی اور کئی عورتیں ہیں تم اس پر کیوں مر رہے ہو۔ مجنوں نے کہا تمہاری نظر میں وہ خوبصورت نہ ہوگی اس کو میری آنکھوں سے دیکھو تو معلوم ہو۔ تو جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس کا درجہ سب سے بڑھاتا ہے اور اس کو سب سے اعلیٰ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مذاہب والے اپنے اپنے بزرگوں کو جو سب سے اعلیٰ اور افضل بناتے ہیں تو محض محبت اور تعلق کی وجہ سے بتاتے ہیں۔ مگر ان کے افضل اور اعلیٰ ہونے کا جب ان سے ثبوت طلب کیا جاتے تو کچھ پیش نہیں کر سکتے ثبوت صرف ہمارے پاس ہے جو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے اعلیٰ اور افضل ہونے کے متعلق پیش کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل ہونے کے ثبوت اور دلائل تو اتنے ہیں کہ اگر ان کو ہم پیش کرنا شروع کریں تو سالہا سال کا عرصہ درکار ہے ۔ قرآن کریم سارے کا سارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کے ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمین و آسمان آپ کی افضلیت کی شہادت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو ہر ایک چیز کا خالق ہے اور اس کی تمام مخلوق شہادت پیش کر رہی ہے مگر چونکہ اس قدر وسیع باتوں کا سمجھنا اور اس وقت ان کا پیش کرنا آسان نہیں ہے اس لئے میں ایک ہی دلیل کو لیتا ہوں جو بہت بڑی ہے اور جس کا سمجھنا ہر ایک انسان کے لئے نہایت آسان ہے ۔ سچائی پر کھنے کا معیار وہ دلیل جو حضرت میشیم کے قول میں بیان کی گئی۔ قول ہے۔ حضرت میشی انجیل ہو ہیں کہ دونوں ان سے جانا انجیل میں فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھیل ہی سے پہچانا جاتا ہے ۔ مطبوعه ۱۹۲۲ء) ہے اسی باب ہے آیت برٹش اینڈ فارن با قبل ساسانی انارکی اور لو ، جب کسی درخت کو پھل لگتےہیں امنی 14 14 یا تو ان کے ذریعہ اس کی خوبی اور برتری معلوم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بالکل سچا واقعہ اور پینچر کا مقرر کردہ قاعدہ جس کو حضرت مسیح نے بیان کیا ہے مثلاً آم کے درخت کو کیکر کے درخت پر کیا فضیلت ہے۔ ہیں کہ ہم شیریں پھیل دیتا ہے لیکن لیکر نہیں دیتا۔ پھر آم کے درختوں کی ایک دوسرے سے کیونکر قیمت بڑھتی ہے ۔ اسی طرح کہ کوئی درخت کم پھل دیتا ہے اور کوئی زیادہ کسی کے پھل شیریں ہوتے ہیں اور کسی کے کھٹے۔ تو پھلوں کی وجہ سے ہی ایک درخت کو دوسرے درخت پر فضیلت ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ایک کی قیمت دوسرے کی قیمت سے بڑھتی ہے ۔ یہی حال اور دوسرے درختوں کا ہوتا ہے کہ جس غرض اور جس کام کے لئے وہ ہوتے ہیں اس کو جو اعلیٰ طور پر پورا کرتا ہے اس کو دوسروں پر فضیلت دی جاتی ہے اور جو اس غرض کو پورا نہیں کرتے ان کی کچھ فضیلت نہیں رہتی ۔ دیکھو آم کا درخت پھل