انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 463

انوار العلوم جلد ۵ ان کا لوگوں پر رعب ہوگا۔ اصلاح نفس نئی نئی چیزیں حاصل ہونے کی خواہش پر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے بیانی چیزیں ملیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں اس کو بھی پورا کر دوں گا۔ چنانچہ فرمایا ، فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ فُرَةِ أَعْيُنٍ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ (السجدة : ١٨) کہ مومن کو ہمیشہ اخفا ہی رہتا ہے ۔ خواہ وہ کسی درجہ اور کہ تبہ پر پہنچ جائے ۔ لوگ پرانی چیز کو پسند نہیں کرتے ۔ اگر کوئی کپڑا ایک سال تک نہ پھٹے تو کہتے ہیں کہ اس سے جی اکتا گیا ہے یہ پھٹتا ہی نہیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم کو ایسی نئی نئی چیزیں دی جائیں گی جن کا تم کو اس سے پہلے علم بھی نہ ہو گا ۔ دشمن کے تباہ ہونے کی خواہش پھر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مشن تباہ ہو ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ۔ فرماتا ۔ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمُ عَذَابًا مُّهِينَا، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مبيناه (الاحزاب : ٥٨-٥٩) وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اور وہ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دکھ دیتے اور ان پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں ان کو ہم جلا کر راکھ کر دیں گے ۔ پھر فرمایا :- وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَلِدُونَ ، تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ ، أَلَمْ تَكُنْ التِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ تكُنتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ ، قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِينَ ، رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَلِمُونَ ، قَالَ اخْسَلُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ ، فَاتَّخَذَ تُمُوهُم سِخْرِ يَا حَتَّى الْسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنْتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ