انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 23

انوار العلوم جلد لله ۲۳ قیام توحید کیلئے غیرت جمع شده روپیہ سے صرف بنیادوں سے اُوپر تک شاید عمارت بلند ہو سکے۔ اب خیال ہوا کہ کیا گیا جائے ۔ حضرت صاحب فرماتے تھے اسی روپیہ میں کام کرو۔ میر صاحب بلند آواز کے آدمی تھے اور حضرت صاحب کے بچپن کے دوست تھے۔ بعض اوقات حضرت صاحب سے لڑ بھی پڑتے تھے سے لڑ انہوں نے کہا کہ حضرت! آپ مجھ سے وہ کام کرانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں، اس روپیہ میں کچھ نہیں ہوسکتا حضرت صاحب نے فرمایا اچھا میر صاحب آپ بتلائیں کہ آپ کے اندازہ میں کتنار و پیہ درکار ہوگا انہوں نے کہا کہ پچیس ہزار اس پر حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب آپ کے اتنے بڑے اندازہ کے تو یہ معنے ہوئے کہ کام کو روک دیا جائے۔ اس وقت بہت سے لوگ ہونگے جو خیال کرتے ہونگے کہ اگر ہم ہوتے تو پچیس ہزار کیا بات تھی ، فوراً مہیا کر دیا جاتا ۔ مگر جب تو یہ حالت تھی کہ پچیس ہزار کا نام سن کر کہ دیا جاتا تھا کہ کام کو روک دینا چاہئے ۔ یا اب تمہیں ہزار کہا جاتا ہے اور ایک مہینہ کے اندر جمع کرانے کا خیال ہے اور جس طرح قادیان میں چندہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر یہ روپیہ جمع ہو جائیگا اور اُمید ہے کہ اس رقم کو گورداسپور، امرتسر، لاہور کے تینوں ضلاع ہی پورا کر دینگے اور باقی اضلاع کے لوگ ہی کہیں گے کہ ایک تحریک ہوئی تھی جو لاہے تھی جو لاہور میں پہنچ کر ختم ہو گئی ۔ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان یہ اصل میں لوگوں کے لئے ایک نشان ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کیا نشان دکھا یا ۔ کیا یہ نشان نہیں کہ ایک غرباء کی جماعت دین کے لئے اس طرح قربانیاں کرتی ہے۔ عیسائی مؤرخ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سامان فتح مہیا تھے۔ روم کی سلطنت مٹ رہی تھی۔ ایران کمزور کرم صلی علیہ سلمکے میں سامان فتح تھے۔ روم کی مٹ رہی تھا۔ مسلمان جوش سے اُٹھے انہیں فتح حاصل ہو گئی۔ اسی طرح لوگ اب تو ہم پر ہنستے ہیں۔ مگر جب دو تین ہو سیال کے بعد احمدیت پھیل جائیگی تو لوگ کہ دینگے کہ پہلے مذاہب بے جان ہو گئے تھے ۔ احمدیت میں جان تھی۔ احمدی جوش سے اُٹھے اور انہوں نے غلبہ پالیا - آج مہنسی کے طور پر پوچھا جاتا ہے کیوں جی اکستنی حکومتیں احمدی مسلمان ہو گئیں ، لیکن جب حکومتوں کو خدا تعالی مسلمان کر دیگا تو کہیں گے کہ تم لوگ جوش سے اُٹھے اور دنیا کو شکار کو لیا ۔ جیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ابتدائی حالت تھی ویسی ہی بعینہ ہماری آج سے میں سال قبل تھی اور اب بھی قریباً ویسی ہی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زمانہ کی نسبت فرانس کا ایک مورخ لکھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بات عجیب تھی۔ لوگ کہتے ہیں وہ جھوٹا تھا مگر