انوارالعلوم (جلد 5) — Page 398
コン انوار العلوم جلد 4 معلوم ہوتا کہ آخری موقع ایک ہی فریق کو ملے ۔ ۳۹۸ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب میں پروفیسر صاحب کی توجہ اس طرف پھرنی چاہتا ہوں کہ آخری موقع صرف ایک فریق کو اس لئے ملنا ضروری ہے کہ اعتراض کرنے کا موقع صرف ایک فریق کو ملنا ہے۔ یہ بات بالکل ہوتی ہے منا کہ کرنے کا صرف ایک فریق کو ہے کہ جس نے جواب دینا ہو گا وہ آخر میں بولے گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دو اعتراض کرے اور جواب دینا ہوگا یہ کہ جواب دینے والا جب ایک اعتراض کا جواب دے چکے تو اسے کہدے کہ ایک سوال کے متعلق آخری دفعہ تم بول چکے ہو اب میں نہ بولنے دونگا کیونکہ آخری دفعہ بولنے کا موقع مجھے بھی مانا چاہئے۔ جس شخص کی حیثیت مجیب کی ہوگی اس کو آخر میں لازماً بولنا پڑیگا ورنہ وہ جواب کسی طرح دیگا۔ دو دفعہ بولنے کا موقع تو صرف مزید وضاحت کے لئے رکھا گیا ہے ورنہ اصل کیفیت تو یہ ہے کہ آپ سوال کریں گے میں اس کا جواب دوں گا ۔ جب سوال آپ کی طرف سے ہو گا اور جواب میری طرف سے تو بہر حال میرا موقع آخری ہو گا کیونکہ جواب ہمیشہ سوال کے بعد ہوتا ہے ۔ اگر آپ نے آخر میں بولنے کا موقع ضرور لینا ہے تو اس کی بھی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اس بحث کے ساتھ ساتھ ایک اور بحث شروع ہو جس میں میں ویدوں کے الہامی ہونے پر اعتراض کروں پھر آپ جواب دیں ، پھر میں جواب پر جرح کروں اور آخر میں آپ اس جرح کے متعلق اپنے جوابات شائع کر دیں۔ اس صورت میں ایک بحث میں آپ کو بھی آخری موقع مل جائے گا ورنہ یہ بات تو عقل کے خلاف ہے کہ سائل بھی آپ ہوں اور جواب کا آخری موقع بھی آپ کو ملے۔ آخر تو بہر حال جواب دینے والا ہی بولے گا ۔ اگر سوال کرنے والا آخر میں موقع پائیگا تو اس بحث کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو گا ۔ پس اگر آخر میں موقع پانے کا آپکو خاص خیال ہے تو دو بحثوں کو ایک وقت میں شروع کیجیئے اور اگر صرف قرآن کریم کے الہامی ہونے پر ہی آپ نے اعتراض کرنا ہے تو پھر آخری موقعہ مجھے جس نے جواب دینا ہے ملنا ضروری ہے۔ میں علاوہ ازیں پروفیسر صاحب یہ بھی تو دیکھیں کہ جو طریق میں نے بیان کیا ہے اس میں انصاف بھی ہے کیونکہ دو ہی موقعے ان کو ملتے ہیں اور دو ہی مجھے ملتے ہیں ۔ اس طرح کہ پہلے وہ اپنے اعتراض کو مفصل اور با دلائل بیان کرینگے ۔ پھر میں ان کے اعتراض کا جواب دوں گا اور جس امر پر ان کا اعتراض ہو گا اس کی حقیقت بیان کروں گا۔ پھر دوسری دفعہ وہ میرے بیان پر جرح کرینگے اور اس کے بعد مجھے دوسرا موقع ملے گا اور میں ان کی جرح کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرونگا پس دو موقعے ان کو لے اور دو مجھے۔ لیکن اگر ان کی بات تسلیم کی جائے کہ بعض دفعہ ان کو آخر میں موقع