انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 397

انوار المعلوم جلد ۵ ۳۹۷ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب میری رائے غلط ہو تو پروفیسر صاحب میرے مضمون کے جواب میں اس حصہ کے متعلق جس سے ان کو لط ہوتو پر و غیر صاحب میرے کے جواب حصہ کے جس سے اختلاف ہو اپنے خیالات کا اظہار کر دیں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ان کو اس سے اختلاف نہیں ہے۔ رندہ میں نے پہلی بات موجودہ بحث کے متعلق دیکھی تھی کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی الہامی ہونے کے خلاف تین اعتراض جو ان کو سب سے زبر دست معلوم ہوں چن لیں کیونکہ بحث کو محدد کرنے کے لئے اعتراضات کو محدود کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر صاحب اس امر کو منظور کرتے ہیں۔ میں نے لکھا تھا کہ ہر ایک اعتراض کی مثالیں بھی محدود ہوں کیونکہ بعض اعتراض ایسے ہو سکتے ہیں کہ ان کی مثالیں بیسیوں کی تعداد تک پہنچ جائیں اور اگر معترض ایک عام اعتراض کر کے اس کی تائید میں بیسیوں مثالیں لکھ جائے تو ان کا جواب بہت طویل عرصہ اور سینکڑوں صفحات کا محتاج ہوگا ۔ پروفیسر صاحب کو اس پر اعتراض ہے اور وہ اس امر کو محدود نہیں کرنا چاہتے ۔ میرے نزدیک اس امر میں بھی حد بندی مناسب اور ضروری ہے کیونکہ سوال کرنا ایک شخص کے اختیار میں ہے اور دوسرے فریق کا کام صرف جواب دینا ہے پس اس کے حقوق شرائط کے ساتھ محفوظ ہو جانے ضروری ہیں ۔ ہاں اگر پروفیسر صاحب کو تین مثالیں اس اعتراض کی تشریح کے لئے کم معلوم ہوتی ہیں تو تین کی بجائے پانچ مثالوں کی حد مقرر کر لی جائے مگر حد ضرور مقرر ہونی چاہئے ۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی ہونے پر اعتراض کریں اور میں انکے جواب دوں اور میں وید کے الہامی ہونے پر اعتراض کروں اور وہ اس کا جواب دیں ۔ پروفیسر صاحب کو اس کو منظور کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک مذہب کے جھوٹا ثابت ہونے سے دوسرا کیونکر سچا ثابت ہو جائے گا۔ میرے نزدیک یہی بات ان کے خلاف بھی کی جاسکتی ہے کہ آپ کا مضمون تو دنیا کے آئندہ مذہب پر تھا اگر اسلام جھوٹا ثابت ہو جائے تو ویدک دھرم کیونکر سچا ثابت ہو جائے گا لیکن چونکہ وہ اس کو پسند نہیں کرتے۔ میں اس سوال کو جانے دیتا ہوں ۔ ۴۔ میں نے لکھا تھا کہ سوال و جواب کا طریق یہ ہو کہ پہلے معترض اپنا اعتراض پیش کرے پھر مجیب جواب دے پھر معترض اس پر جرح کرے اور پھر مجیب اس جرح کا جواب شائع کر دے اور اس کے بعد بحث ختم بھی جائے ۔ پروفیسر صاحب اس کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ اگر بحث ایک ہی ہو تو پھر یہ ٹھیک نہیں