انوارالعلوم (جلد 5) — Page 330
انوار العلوم جلد ۵ ٣٣٠ اسلام اور حریت و مساوات ہوتی ہے ۔ ان کی اطاعت کو شرک کہا ہی نہیں جا سکتا۔ شرک وہی اطاعت ہو سکتی ہے جو باذن اللہ کے خلاف ہو نہ کہ جو اس کے موافق ہو۔ غرض احادیث کو اس بناء پر رد کرنا کہ ان کو ماننے سے شرک لازم آجاتا ہے ایک دھوکا ہے جو خواجہ صاحب کو لگا ہوا ہے۔ اور در حقیقت ایسا اعتقاد رکھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ہنگ کرنا ان کے کام آ جاتا ہے ایک دھوکا ہے؟ کیونکہ اس صورت میں دو بات میں سی ای او کار می کند علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذلک خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف بھی کہہ دیا کرتے تھے اور یا یہ کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف ان کی بات نہ ہو تب بھی اس کو قبول کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ اس سے شرک لازم آتا ہے۔ گویا رسالت ایک رحمت نہیں بلکہ عذاب ہے۔ نعوذ باللہ حریت و مساوات اسلام میں خواجہ صاحب نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ حریت و مساوات اگر بعض تشریحات کے مطابق اسلامی احکام میں شامل ہونگی تو کیا اصولاً ہوں گی یا کسی اور طرح ؟ خواجہ صاحب نے اپنی طرف سے نہایت سوچ کر یہ ایک معمہ پیدا کر دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اگر میں کہوں کہ اصولاً داخل ہوں گی تو وہ کہیں گے کہ پھر یہ اصولی مسائل ہوئے اور اگر کہوں کہ اصولاً داخل نہیں ہوں گی تو پھر وہ سوال کریں گے کہ جب اسلام میں کوئی چیز بے اصول کے داخل ہوتی ہے تو پھر اسلام مکمل کیونکہ ہوگیا یہ تو اسلام پر الزام ہے۔ حالانکہ یہ ایک دھوکا ہے کسی امر کا اصولاً کسی دائرہ کے اندر داخل ہو جانا اس امر کا ثبوت نہیں ہوتا کہ اسے اس کے اُصول میں داخل کر دیا جانے ہر ایک منضبط کلام اور دین اور شریعت اور قانون اپنے اندر ایک رابطہ اور سلسلہ رکھتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کا ہر ایک جزو اصول میں شامل ہے ۔ مدرسہ میں داخل ہونے والا ہر ایک طالبعلم کسی قانون یا اصل کے ماتحت مدرسہ میں داخل کیا جاتا ہے مگر ہر ایک طالب علم اس مدرسہ کی روح ارواں روال نہیں کہلاتا ۔ ہر ایک اینٹ جوکسی جو کسی عمارت عمارت میں میں کا لگائی جاتی ہے کسی اصول کے ماتحت لگائی جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ اس شخص کی ملکیت ہے جس کا مکان بن رہا ہے۔ یا یہ کہ معمار سے اس جگہ کے لئے پسند کرتا ہے ۔ یا یہ کہ وہ اس موقع پر سامنے آگئی جب کہ اس مقام پر معمار کو ایک اینٹ لگانے کی ضرورت تھی۔ مگر کوئی نادان ہر ایک اینٹ کو جو عمارت میں لگی ہوئی ہے بنیاد نہیں کہے گا۔ اسی طرح ہر ایک حکم جو شریعت حقہ دے گی کسی سلسلہ فوائد کو مد نظر رکھتے ہونے دے گی۔ لیکن صرف اس لئے کہ اس کا شمول کسی قاعدہ یا کسی اصل کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ہر ایک حکم کو اس مذہب کے اصول میں شامل نہیں کر دے گا۔ پس خواجہ صاحب کا قول زخرف القول سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور