انوارالعلوم (جلد 5) — Page 310
انوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات در پیش ہو تو اپنی ضروریات سے زائد مال تمام کا تمام جہاد کے لئے دے دو۔ اور ان معنوں سے مساوات ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ مال غرباء میں تقسیم نہ کیا جائے گا بلکہ دشمن کے مقابلہ میں خرچ ہوگا۔ دوسرے معنی اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ یہ جہاد کا ذکر نہیں بلکہ صدقات کا ذکر ہے۔ جو لوگ صدقات کا ذکر بناتے ہیں وہ بھی اس آیت کے کئی معنی کرتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کہ عفو کے معنی ضروریات سے زائد بچے ہوئے مال کیے ہیں ۔ شروع اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو بھی ہے اس کے سنی ہیں اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا۔ مگر آیت زکوٰۃ کے نازل ہونے پر یہ حکم موقوف ہو گیا ۔ ان لوگوں کے نزدیک گویا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ زکوۃ کے متعلق حکم ہے اور مجملاً بیان ہوا ہے ۔ اس کی تفصیل دوسری جنگوں سے معلوم ہوتی ہے۔ ایک اور جماعت عفو کے معنی اس مال کے کرتی ہے جس کا خرچ کر نا پوچھے نہ معلوم ہو اور جس کے خرچ کرنے سے جائداد تباہ نہ ہو جائے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے معنی در میانی خرج کے ہیں یعنی نہ بالکل کم خرچ کرو نہ حد سے زیادہ خرچ کرو۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عفو کے معنی بہتر اور پاک مال کے ہیں ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے اور پاک مال میں سے خرچ کرو، یہ نہ خیال کرو کہ پرانی اشیاء یا دوسروں کے مال اُٹھا کر دے دو تو تم صدقہ کے حکم کے بجالانے والے ہو جاؤ گے بعضوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ صدقہ اور خیرات خوب دل کھول کر کرو۔ ضرورت سے زائد مال تقسیم کر ان تمام معانی سے جو مفسرین نے کئے ہیں۔ آپ کے معنوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔ جس جماعت نے اس آیت دینے کا اسلام نے حکم نہیں نے یا کے یعنی کئے بھی ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کر دو۔ اس نے بھی یا تو اسے جہاد پر چسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے۔ کیونکہ وہ صحابہ رضوان اللہ علیم کے عمل کو اور امت اسلامیہ کے طریق کو اس کے خلاف دیکھتے تھے ۔ احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات کی تائید فرماتی ہیں کہ اپنے اخراجات نکال کر باقی مال تقسیم کر دینا اسلامی حکم نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : يَجِيُّ أَحَدُكُمْ بِمَالِهِ يَتَصَدَّقُ بِهِ وَيَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسُ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ على ظهر غنی ددار می كتاب الزكوة باب النهي عن الصدقة بجميع ما عند الرجل) تم میں سے بعض اپنا سارا مال صدقہ کے لئے لے آتے ہیں اور پھر لوگوں کے آگے سوال کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ صدقہ زائد مال سے ہوتا ہے۔ اسی طرح فرماتے ہیں کہ