انوارالعلوم (جلد 5) — Page 309
انوار العام جلد ۵ ۳۰۹ اسلام اور حریت و مساوات سمجھ کر اس کے دھوکے میں آگئے اور کسی صحابی نے بھی اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کیا ۔ حالانکہ اس وقت ان میں بڑے بڑے صحابہ موجود تھے جو حضرت ابوزر سے زیادہ سابق اور زیادہ فقیہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مقرب تھے۔ باقی رہا یہ کہنا کہ اسلام نے زکوٰۃ کے نکالنے کا حکم کے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ اس دیا زکوۃ مقرر کرنے کی وجہ سے معلوم ہوا کہ الاماں کی قسم کاحکم دیا ہے غلط سے معلوم ہوا کہ اسلام مال کی تقسیم کا حکم دیتا ہے ایک غلط استدلال ہے۔ زکوۃ کے مسئلہ سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ غرباء کی مدد اسلام نے فرض مقرر کی ہے نہ یہ کہ مال کو قسیم کرنا اسلم نے فرض فقر کیا ے خود کوہ کی تعین اس امر کا بت ہے کہ ماں کی عظیم شریعت نے مقرر نہیں کی۔ کیونکہ زکوۃ تو مثلاً مال پر چالیسواں حصہ ہوتی ہے۔ اور زراعت پر عشر اور نصف عشر تی ہے۔ لیکن آید اس نسبت سے زیادہ ہوتی ہے تو تقسیم مساوات رکھنے والی کہاں ہوئی ہے پھر زکوة کے کئی آدمیوں میں تقسیم ہوگی کچھ عملہ زکوۃ پر خرچ ہو جائے گی ۔ پس زکوۃ کے مسئلہ سے مال میں مساوات ہو رکھنے کا مسئلہ ثابت کرنا ایک سخت تعدی ہے ۔ عفو کے کیا معنی ہیں خواجہ صاحب نے اپنے اس دعوی کی تصدیق میں کچھ آیت بھی کبھی یں بامعنی ہیں اور جس طرح تمام مضمون میں انہوں نے صرف آیات کے درج کرنے سے لیئے غرض رکھی ہے یہ نہیں دیکھا کہ وہ آیات وہاں چسپاں بھی ہوتی ہیں یا نہیں ؟ یہاں بھی ایسا ہی کیا ہے۔ کئی آیات اس مضمون کی درج کی ہیں کہ جو کچھ تم کو خدا تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، حالانکہ خداتعات کی دی ہوئی نعمتوں میں سے غرباء کو بھی حصہ دینا یہ اور بات ہے اور اپنے اخراجات نکال کر غرباء کو باتی ور اخرا مال تقسیم کر دینا اور بات ہے۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کئی آیات اس امر کے متعلق نقل کر دی ہیں کہ جنگوں میں حاصل شدہ مال کسی طرح تقسیم کرنے چاہئیں۔ حالانکہ ان اموال کا زیر بحث مسئلہ سے کچھ تعلق ہی نہیں صرف ایک آیت ہے جس سے کچھ استدلال ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَيَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفُو (البقرة : (۲۲۰) عفو کے کئی معنی ہیں ۔ جن میں سے ایک معنی زیادہ کے بھی ہیں ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دے کہ جو بچ جائے اسے خرچ کرو" بعض لوگوں نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس میں جو مال بھی ضرورت سے زائد ہو اس کے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ معنے روایت اور درایت دونوں کے خلاف ہیں۔ مضرین نے اس آیت کے کئی معنے لکھے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس جگہ جہاد میں اموال خرچ کرنے کا حکم ہے صدقات مراد نہیں ۔ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جب جہاد