انوارالعلوم (جلد 5) — Page 306
انوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات مضامین کی کیا ضرورت تھی۔ یہی بات تو میں نے لکھی تھی کہ ہو سکتا ہے کہ حریت و مساوات کا کوئی مفہوم ایسا ہو کہ وہ احکام اسلام میں شامل ہو جائے اور اس کا خیال رکھنا ضروری ہو جائے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خیال رکھنا صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ منع ہو۔ آپ بھی یہی لکھتے ہی کہ حاکم قوم کو ایک حد تک فضیلت حاصل ہوتی ہے لیکن محکوم قوم کی حالت غلامی تک نہیں پہنچنی چا۔ غلامی تک نہیں پہچنی چاہئے نہیں پہچنی چاہئے۔ اور یہ کسی نے لکھا تھا کہ محکوم قوم کے لئے اسلامی احکام کے مطابق غلام بن کر رہنے کا حکم ہے۔ یہ تو ایک خیال عظیم ہے جو خود ہی آپ نے پیدا کر لیا اور خود ہی اس کا جواب دینے لگ گئے ہیں۔ میرا تو صرف اس قدر دعوی تھا کہ حریت و مساوات کا اصل ہر جگہ چسپاں نہیں ہو سکتا۔ اور یہ کہ اس کی مختلف تعریفیں اور حد بندیاں کی جا سکتی ہیں۔ جن کے ماتحت اس کی تعریف یا مذمت کی جا سکتی ہے ۔ آپ خود تشریح کرتے ہوئے اسی پھندے میں پھنس گئے اور آپ کو تسلیم کرنا پڑا کہ ہر جگہ اس کا استعمال نہیں ہوسکتا۔ سائل نے کون سی حریت و مساوات کے متعلق پوچھا تھا ؟ خواجہ صاحب کو یہ روہ اور بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ سائل کا منشاء حریت و مساوات کے قیام سے اسی حریت و مساوات کا قائم کرنا تھا جو حاکم و محکوم کے درمیان ہو ۔ کیونکہ ان کا اشارہ حکومتوں کے تعلقات کے متعلق تھا نہ کہ مغل اور سید اور راجپوت اور جاٹ کے فرق یا نجات کے عام ہونے کے متعلق اور اس امر میں عدم مساوات کے مٹانے کے متعلق انہوں نے اشارہ کیا تھا ۔ اور اسی وجہ سے میں ان سے تشریح چاہتا تھا کہ وہ جب صفائی سے ان الفاظ کے مفہوم کی تعیین کریں تو آپ کی طرح ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے کہ حریت د مساوات کا مفہوم بھی محدود ہے کے اور ایک حد تک حریت و مساوات کا خیال کر کے فضیلت اور درجہ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور اس کے بغیر دنیا کا امن قائم ہی نہیں رہ سکتا ۔ اس اجمالی جواب کے بعد میں ان تینوں قسم کی حریت و مساوات کے متعلق جو خواجہ صاحب نے قائم کی ہے ۔ الگ الگ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں ۔ مذہبی مساوات پہلی مساوات خواجہ صاحب نے مذہب کی بیان کی ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ مساوات سب سے بڑی ہے ۔ اور سب سے پہلے اسے اسلام نے ہی قائم کیا ہے لیکن اس سادات کا ذکر کرنے سے خواجہ صاحب کی غرض نہ علوم کیا ہے؟ جس شخص کے خط کا جواب میں نے دیا ہے اور جس کی وکالت کے لئے آپ کھڑے ہو ہوئے ہیں وہ تو اس مساوات کو نہایت حقارت سے دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے آقا اور راہنما حضرت