انوارالعلوم (جلد 5) — Page 264
انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۴ ترک موالات اور احکام اسلام جگہ رہ کر اور زمرہ کے تعلقات کی موجودگی میںسوائے خاص حالات کے ایسی تحریک کبھی امن کے ساتھ نہیں کی جاسکتی ؟ محبت و ہمدردی اور ترک موالات (۴) یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کل مذاہب محبت اور ہمدردی کی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں اور جس قدر محبت کام کر سکتی ہے اور کوئی حربہ کام نہیں کر سکتا ۔ اسلام تو محبت اور مروت کی تعلیم سے پُر ہے پس ایسی تعلیم دینی جو مروت کو قطع کرنے والی اور مواسات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والی ہے مذہباً درست نہیں ہو سکتی آخر قرآن کریم کے سکھائے ہوئے اخلاق کسی دن کے لئے ہیں ؟ ایک ملک میں رہ کر وہاں کی حکومت کی بیخ اُکھاڑ کر پھینکنے کی کوشش اور عداوت اور بغض کا بیج بونا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيٌّ حَمِيم رحم السجدة : ۳۵) یعنی نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی تو بدی کو نیکی بدی کو نیکی کے ذریعہ دور کر پس اچانک دیکھے گا کہ وہ شخص جس کے اور تیرے درمیان عداوت تھی تیرا گہرا دوست بن گیا ہے " غرض محبت کا اثر بہت گہرا رتا ہے اور کینہ اور غضب مذموم عادات میں سے ہیں مسلمان کو صا۔ مسلمان کو صاحب وقار ہونے کا حکم ہے اور محبت کی اسے تعلیم دی گئی ہے جو شخص اس تعلیم پر عمل نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی ہدایت کا مستحق نہیں پس ایسا نہ ہو کہ لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرنے والے خود ہی فتنہ میں پڑجائیں بے شک کبھی سزا بھی ضروری ہوتی ہے مگر حکام کے مقابلہ میں نرمی کا ہی حکم ہے کیونکہ جو شخص ان کے مقابلہ کی جرأت پیدا کرتا ہے وہ ملک کے امن کو تباہ کرتا ہے اگر ان کی کوئی بات نا پسند ہو اور وہ سمجھانے سے بھی نہ مانیں اور وہ بات نظر انداز کرنے کے قابل نہ ہو تو ایسے وقت میں وہی حکم ہے جو اوپر گزر چکا کہ اس ملک کو چھوڑ کر چلا جاوے ۔ قرآن کریم نے صرف دو قسم کی ترک موالات کا حکم دیا خلاصہ کلام یہ ہے کئے قرآن کریم نے مخالفین سے ہے جن میں سے کوئی بھی انگریزوں پر عائد نہیں ہوتی مران کو کم کیتری سوالات صرف دوسم کا حکم دیا ہے۔ ایک وہ ترک موالات ہے جو افراد افراد سے کرتے ہیں اور ایک وہ جو قوم قوم سے کرتی ہے ۔ جو ترک موالات کہ افراد کے متعلق ہے اس کا موقع استعمال نب ہوتا ہے جب کوئی شخص دین اسلام سے تضحیک کرے اور بجائے تحقیق حق کے اس پر ہنسی اُڑائے ایسے شخص کے ساتھ مسلمانوں کو اُٹھنا بیٹھنا