انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 263

انوار العلوم جلد ۲۶۳ ترک موالات اور احکام اسلام اور بیٹی ۔ لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے ان ممالک کے لوگوں کی قابلیت جس پر ان کا دیرینہ قبضہ ہے ان ممالک کے لوگوں کی قابلیت سے جن پر ان کا بعد میں قبضہ ہوا ہے بہت بڑھی ہوئی ہے اور ان میں سیاست کے سمجھنے اور علوم سے عملی صورت میں فائدہ اُٹھانے کی اہمیت بہت زیادہ پیدا ہو گئی ہے بہت کے بھنے اور علوم سے عملی صورت میں فائدہ اُٹھانے کی اہمیت بہت نے حالانکہ اگر ان کا اثر ایک زہر ہے تو اس وقت تک ان کو بالکل جاہل ہو جانا چاہئے تھا ۔ اگر انکا اثر تو اس وقت ان ہوجا انگریزوں کا انتظام نقائص سے پاک نہیں مگر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م اور میرا مطلب اس تحریر سے یہ نہیں کہ ان کے انتظام ان کی ان کا فائدہ ان کے نقصان پر غلبہ رکھتا ہے تا ہے تعلیم میں نقص نہیں ہیں ۔ میں اس میں بہت سے نقص دیکھتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ ہمیں غصہ میں آکر ان کی خوبیوں سے آنکھیں بند نہیں کر لینی چاہئیں اور ان کی آمد سے واقعی جو ہمیں فائدہ ہوا ہے اور ان کے ذریعہ سے جو امن ہمیں حاصل ہوا ہے اس کا انکار نہیں کرنا چاہئے ۔ غرض انگریزوں کے آنے سے ہندوستان کو بہت امن ملا ہے اور گو یہ بھی بہت سی غلطیاں کرتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ان کا وجود بہت نفع دہ ثابت ہوا ہے اور اگر اسے نہ بھی تسلیم کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یہاں ایک منظم حکومت قائم کر لی ہے ۔ اور ہندوستان کے ان سینکڑوں حصوں کو جو پہلے بالکل علیحدہ علیحدہ تھے ایک جگہ جمع کر دیا ہے پس اس امن کو جو انہوں نے قائم کیا ہے اور اس اتحاد کو جو ان کے ذریعہ سے حاصل ہوا ہے ان کی سلطنت کو کمزور کے توڑنا نہیں چاہتے جائے اس اتحاد کو جو ان کے ذریعہ کیونکہ علاوہ ہمارے دنیوی نقصان کے اس میں شریعت کے احکام کی بھی خلاف ورزی ہے اور قرآن کریم کی صریح تعلیم کا انکار ہے ۔ کو شاید اس جگہ یہ کہا جائے کہ ہم تو فساد نہیں کیا ترک موالات موجب فساد نہیں ؟ کرتے لیکن یہ بات درست نہیں ترک توان موالات کا آخری نتیجہ ضرور فساد ہے اور ابھی سے فساد شروع ہے۔ علی گڑھ اور لاہور کے اسلامی کالجوں میں جو کچھ ہوا وہ راز نہیں کہلا سکتا ہر ایک شخص کی زبان پر ان دونوں کا لجوں کے واقعات ہیں اور ابھی تو ابتداء ہے یہ فساد روز بروز اور ترقی کرے گا اور اگر اس تحریک کو ترک نہ کر دیا گیا تو مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو بھی خاک میں ملا دے گا۔ یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ عوام الناس کو کہا جائے کہ گورنمنٹ اس حد تک گر گئی ہے کہ اس سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں اور پھر وہ فساد سے باز رہیں جب لوگوں کو یہ کہا جائے گا تو وہ گورنمنٹ سے وحشیوں والا سلوک کریں گے۔ ایک ملک اور ایک اب حد دسے ؟