انوارالعلوم (جلد 5) — Page 241
انوار العلوم جلد ۵ ۲۴۱ ترک موالات اور احکام اسلام اور نہ راستہ ہ انتے ہیں یہیں یہ لوگ ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے اور اللہ تعالی بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہجرت کرے وہ دنیا میں مصاب سے بچنے کے کئی راستہ پاوے گا اور کشائش دیکھے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہجرت کرتا ہے پھر اس کو موت آجاتی ہے تو اس کا بدلہ خدا کے حضور میں مسلم ہو گیا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔ اس آیت سے ثابت ہے کہ سوائے ان اشخاص کے کہ حسیمانی عوارض کی وجہ سے ہجرت نہ کر سکیں اور دوسرے لوگ خواہ غربت کا عذر رکھتے ہوں خواہ تعلقات کا ، خواہ چھوٹے درجہ کے لوگ ہوں، خواہ بڑے درجہ کے لوگ ہوں ، عالم ہوں کہ جاہل سب پر ہجرت فرض ہے اور اگر وہ ہجرت کئے بغیر مر جاویں تو وہ جہنمی ہوں گے ۔ اس عذر کا جواب کہ یہ حکم ہجرت صرف شائد کوئی اس جگہ کہ دے کہ یہ تورسول کریم آنحضرت صلی اللہ علی کلم کے زمانہ سے متعلق ہے کے زمانہ سے تعلق ہے صلی اللہ علیہ سلم کے وقت کی بات ہے اب تو یہ حکم نہیں۔ مگر یہ حیلہ درست نہ ہو گا لو ہو ۔ کیونکہ اگر اس طرح احکام کو محدود کرنے لگیں تو قرآن کریم کے تو بہت تھوڑے احکام رہ جائیں گے جو سب مسلمانوں کے لئے ہوں گے کیونکہ بالعموم قرآن کریم میں مخاطب کر کے احکام نازل ہوتے ہیں پیس جیسا کہ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ احکام ہر زمانہ کے لئے ہیں۔ جب بھی یہ حالت ہوگی کہ ایک کا فرحکومت اسلام کے مٹانے کے لئے تلوار پکڑے گی تو اس کے ماتحت رہنے والے مسلمانوں کو حکم ہوگا کہ وہ اس کا ملک چھوڑ کر چلے جاویں اور پھر ان مسلمانوں سے مل کر جن کے مقابلہ پر وہ دشمن اسلام کھڑے ہیں کفار کا مقابلہ کریں اور سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیں ۔ چنانچہ فتح البیان میں لکھا ہے خَيْرَادُ بِالْأَرْضِ كُلَّ بُقْعَةٍ مِن بُقَاعِ الْأَرْضِ تَصْلَحُ لِلْهِجْرَةِ إِلَيْهَا وَيُرَادُ بِالْأَرْضِ الْأُولَى كُلُّ أَرْضِ يَنْبَغِي الهِجْرَةُ مِنْهَا - تفسير فتح البيان تفسير سورة النساء زير آيت إِنَّ الَّذِينَ تَوَتَهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي الْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُم جلد ۲ مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ ) یعنی ہجرت کی زمین سے صرف مدینہ مراد نہ لیا جاوے گا ہر ایک زمین جو ہجرت کرنے کے قابل ہو وہ مراد لی جاوے گی اور اسی طرح وہ زمین جہاں سے ہجرت کرنی ہے اس سے مراد بھی صرف مکہ نہیں لیا جاوے گا بلکہ ہر ایک وہ زمین مراد لی جائے گی جہاں سے ہجرت کرنا مناسب ہو ؟ ン غرض یہ حکم ہر زمانہ کے لئے ہے اور اگر انگریز واقع میں دین اسلام کے مٹانے کے لئے جنگ