انوارالعلوم (جلد 5) — Page 240
انوار العلوم جلد ۲۴۰ ترک موالات اور احکام اسلام ی کم بھی آکر منسوخ ہوا جب کہ مکہ فتح ہو گیا اور کفر کا زور ٹوٹ گیا اور اگر آج پھر وہی حالت ہے یہ کہ ایک دشمن اسلام، اسلام کو مٹانے کیلئے اور لوگوں کو جبراً اسلام سے مرتد کرنے کے لئے مسلمانوں پر فوج کشی کر رہا ہو تو اس وقت پھر وہی حکم جاری ہو گا جو اس وقت جاری تھا اور اس صورت میں جو شخص کر ہو رت نہیں کرتا خواہ وہ کتنے ہی خطاب ترک کر دے۔ کالج کی تعلیم چھوڑ دے نوکری چھوڑ دے بلکہ انگریزوں کا بنایا ہوا کپڑا بھی چھوڑ دے تو بھی وہ شخص مسلم کہلانے کا مستحق نہیں کیونکہ قرآن کریم ان حالات میں ہجرت نہ کرنے والے کو منافق کہتا ہے اور صاف طور پر کفار میں شامل کرتا اور جہنمی قرار دیتا ہے ۔ ہجرت عدم استطاعت ہجرت کا غدر اور اس کا جواب کونی شی یہ ہیں کہ سکتا کہ میں ہجرت شخص ہم ہویا کی طاقت نہیں کیونکہ ہجرت کے راستہ میں روک صرف جسمانی نا قابلیتیں سمجھی گئی ہیں جیسے کوئی شخص ایسا بوڑھا ہو کہ چل نہ سکتا ہو یا اندھا ہو یا لنگڑا یا ایسا بیمار ہو کہ چار پائی پر سے سے اُٹھ نہ سکتا ہو یا عورت ہو یا بچہ ہو۔ جسمانی کمزوریوں کے سوا دوسرے عذر اس معاملہ میں نہیں سنے جاتے اور ان سب عذرات کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں لغو اور بیہودہ قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَا جِرُوا فِيْهَا، فَا وَلَئِكَ مَا وَهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ، إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةٌ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلاً، فان فا ولئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًا غَفُورًا ، وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُر عَمَّا كَثِيراً وَسَعَةٌ ، وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ المَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ) (النساء : ۹۸ تا ۱۱) " وہ لوگ جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں اتمام مفسرین اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی ہوئی ہوتی ، ملائکہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کسی خیال میں تھے ؟ یعنی تم نے کیوں ہجرت نہیں کی ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے ہجرت کیونکر کرتے ؟ وہ کہیں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ پس یہ لوگ جہنم میں ڈالے جاویں گے اور یہ برا ہی یہ برا ہی ٹھکانا ہے۔ ہاں وہ وہ لوگ مستثنی ہیں جو واقعی معذور ہیں۔ مردوں یا عورتوں یا بچوں میں سے جن کے اس ملک سے نکلنے کا کوئی سامان ہی نہیں لول