انوارالعلوم (جلد 5) — Page 153
انوار العلوم جلد ۵ ۱۵۳ فرائض مستورات تم جانتے ہو ئیں جھوٹ بولنے والا نہیں ۔ انہوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر موجو د ہے جو مکہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو تم مان لو گے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم مان لیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا عذاب تم پر آنے والا ہے تم اس سے بچ جاؤ اور شرک کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب کے مستوجب نہ بنو۔ یہ بات حسن کر وہ گالیاں دیتے چلے گئے اور کہنے لگے یہ تو سودائی ہو گیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور پہلے کی طرح ان کو شرک سے روکتے رہے۔ اس پر لوگ جمع ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے چچا کے پاس گئے اور جا کر کہا اپنے بھتیجے کوسمجھاؤ یہ ہمارے بتوں کی مذمت کرتا ہے باز آجائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا نے لوگوں سے کہ دیا کہ جو بات وہ پیچھے دل اور پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے اسے وہ کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔ آخر بڑے بڑے لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور جا کر کہیں کہ جو کچھ تم کہو گے ہم مان لیں گے لیکن تم بتوں کے خلاف کہنا چھوڑ دو۔ چنانچہ لوگ گئے اور جا کر کہا کہ ہم قوم کی طرف سے آئے ہیں اور تم بہت اچھے آدمی ہو ہم نہیں سمجھتے تم قوم کو تباہ ہونے دو گے ہم تمہارے پاس ایک پیغام لائے ہیں اس کو قبول کرو تاکہ تفرقہ نہ پڑے اور ہماری قوم تباہ نہ ہو ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سناؤ کیا پیغام لائے ہوا ہوں نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تمہیں مال کی ضرورت ہو تو ہم تمہیں مال جمع کر کے دے دیں۔ اور اگر تم کسی اعلیٰ گھرانے میں رشتہ کرنا چاہتے ہو تو امیر سے امیر گھرانہ کی اچھی سے اچھی عورت سے رشتہ کرا دیتے ہیں اور اگر یہ چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری باتیں مانیں تو ہم لکھ دیتے ہیں کہ جس طرح سے تم کہو گے اسی طرح ہم کریں گے۔ اگر تم بادشاہ بنا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں مگر تم یہ نہ کہو کہ ایک ہی خدا ہے اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کا جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیا ۔ یہ کہ اگر تم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر بھی رکھ دو تو پھر بھی میں تمہاری یہ بات نہ مانوں گا ۔ یے عو رسموں کو چھوڑ دو مگر ھر ہی کہتی ہیں اگر ہمنے فلاں ہم نہ کی و محلہ والے کیا کہیں گے اب تو رسمیں کم ہوتی جاتی ہیں تاہم ہندوؤں کی رسمیں جو مسلمانوں میں آگئی ہیں ان کے متعلق سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا فائدہ ہے ؟ عقلمند انسان وہی کام کرتا ہے جس میں کوئی فائدہ ہو۔ مگر آج کل بیاہ شادیوں میں جو رسمیں کی جاتی ہیں ان کا کیا فائدہ ہوتا ہے ؟ کچھ بھی نہیں ۔ صرف اس لئے کی جاتی ہیں کہ ہمارے باپ دادا کی رسمیں ہیں ۔ مگر جن لوگوں میں ایمان داخل ہو باپ جاتا ہے اور وہ دین پر عمل کرتے ہیں وہ ہرگز اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے باپ دادا کیا کیا سیرت ابن ہشام (مغربی جلد ا صفحه ۲۸۴ مطبوعہ مصر ۶۱۹۳۶