انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 152

انوار العلوم جلد ۵ ۱۵۲ فرائض مستورات برادری کی رسوم کو شریعت پر ترجیح نہ دو پر کسی قم کی ہیں اور بدعتیں ہیں جن کے کرنے کے لئے غور نہیں مردوں کو مجبور کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر اس طرح نہ کیا گیا تو باپ دادا کی ناک کٹ جائے گی گویا گویا وہ باپ دادا کی رسموں کو چھوڑنا تو پسند نہیں کریمیں کہتی ہیں اگر تم نے رسمیں نہ کیں تو محلہ والے نام رکھیں سکے لیکن اگر خدا تعالیٰ ان کا نام رکھے تو اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی ۔محلہ والوں کی انہیں بڑی فکر ہوتی ہے لیکن خدا تعالی انہیں کافر اور فاسق قرار دے دے دے تو اس کا کچھ خیال نہیں ہوتا کہتی ہیں یہ ورزنارا ہے اسے ہم چھوڑ نہیں سکتیں ۔ حالانکہ قائم خدا تعالیٰ ہی کا ورتارا رہے گا باقی سب کچھ نہیں رہ جائے گا اور انسان اگلے جہان چلا جائے گا جہاں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کا دن ایسا سخت اور خطرناک ہو گا کہ ہر ایک رشتہ دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر الگ الگ اپنی فکر میں گرفتار ہو گا ۔ پس عورتوں کو چاہئے کہ اس دن کی فکر کریں ۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو اور اس تعلق کو مضبوط کرو جو قیامت میں تمہارے کام آئے گا ۔ دنیا کے تعلق اور دنیا کی باتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں ۔ ہمارے پیشوا خاتم الانبیاء کا اسوہ حسنہ دیکھو جب محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ سلم آئے اور آکر کہا کہ خدا ایک ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس وقت ان کے سارے رشتہ دار کتوں کے آگے سجدے کرتے اور ان کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے تھے۔ اکثر عورتوں کو معلوم ہو گا کہ مجاوروں کا گزارہ لوگوں کی منتوں پر ہی ہوتا ہے احمدیت سے پہلے تم میں کئی عورتیں خانقاہوں پر جاتی ہوں گی یا جن کو احمدیت کی تعلیم سے ناواقفیت ہے اور جو اپنے مذہب میں کمزور ہیں ممکن ہے وہ اب بھی جاتی ہوں ۔ انہوں نے دیکھا ہو گا کہ مجاوروں کی آمدنی انہی لوگوں کے ذریعہ ہوتی ہے جو وہاں جاتے ہیں۔ تو مکہ والے بتوں کے مجاور تھے انہوں نے کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے جن پر پر لوگ دور دور سے آکر نذریں چڑھاتے تھے جنہیں وہ آپس میں بانٹ لیتے تھے ۔ یا لوگ بتوں کی پرستش کے لئے وہاں جمع ہوتے اور وہ تجارت کے ذریعہ ان سے فائدہ اُٹھاتے تھے اس لئے بتوں کو چھوڑ دینے سے وہ سمجھتے تھے کہ ہم بھوکے مر جائیں گے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے رشتہ دار ایسے ہی تھے جن کا گزارہ بتوں پر تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو آپ نے کسی رشتہ دار کی پرواہ نہ کی اور بڑے زور کے ساتھ کہہ دیا کہ صرف خدا ہی ایک معبود ہے باقی سب معبود جھوٹے ہیں۔ یہ بات آپ کے رشتہ داروں کو بہت بری لگی اور انہوں نے آپ کو تکلیفیں دینا شر فرع کر دیں ۔ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر چڑھ گئے اور لوگوں کو بلا یا جب لوگ آگئے تو کہا