انوارالعلوم (جلد 5) — Page 134
انوار العلوم جلد ۵ ۱۳۴ خاتم النبین کی شان کا اظہار اتباعی والیواقیت والجواهر مؤلفه امام عبد الوہاب شعرانی جلد ۲ صفحه ۲۲ مطبوعہ مصر (۱۳۲) ھا کہ اگر موسیٰ اور علی زندہ ہوتے تو ان کے لئے سوائے اسکے چارہ نہ ہوتا کہ میری اتباع کرتے ۔ اس حدیث کے متعلق عیسائی اور یہودی کر سکتے ہیں کہ یونی بیٹھے بیٹھے دعوی کر دیا اس کا کیا ثبوت ہے کہ اگر عیسی اور موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کی اتباع کرتے اگر اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کا جواب دیں اور وہ جواب میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ایک انسان کو کھڑا کر کے اس کا نام موسی اور علیستی رکھ دیا اور وہ آپ کا غلام کہلا یا اس کی نے آکر چیلنج دیا کہ آؤ جو کچھ موسی اور بیٹی کو دیا گیا تھا وہ مجھ میں دیکھ لو۔ لیکن یہ کوئی میری فضیلت نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ہے کیونکہ جو کچھ مجھے ملا ہے وہ آپ ہی کے طفیل اور آپ ہی کی وجہ سے ملا ہے ۔ پس اس طرح حضرت مرزا صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ظاہر کی ہے ۔ آخری نبی کا مطلب اب رہا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آخری نبی تھے ۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ آخری کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا بلکہ یہ ہیں کہ آپ جیسا کوئی نبی نہیں ہو گا۔ جو شان جو رتبہ جو درجہ آپ کو حاصل ہے وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہو سکے گا اور آپ سے علیحدہ ہو کر کوئی نبی نہیں بن سکے گا ۔ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث اس کی تصدیق کرتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میری مسجد آخری مسجد ہے (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلاة بمسجدى مكة والمدينة ، اب کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد دنیا میں اور مسجدیں بنائی گئیں یا نہیں؟ اگر بنائی گئیں تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا ہیں کہ یہ مسجدیں غیر نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے نقش کے مطابق ہی بنائی گئی ہیں۔ یہی بات ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسا نبی آئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہو نہ کہ آپ سے الگ تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہتک نہیں اور اس کا آنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخرالانبیاء ہونے کے خلاف نہیں لیکن اگر کوئی ایسا نبی بھی نہیں آسکتا تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد کوئی مسجد بھی نہیں بنائی جا سکتی کیونکہ اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کو آخری مسجد قرار دیا ہے ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جوگی جو کسی قوم کا حوصلہ پست ہوتا جاتا ہے وہ بڑے مدارج کا حاصل کرنا محال سمجھ کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرنا شروع کر دیتی ہے لیکن انبیاء اپنی جماعتوں کے لئے چھوٹے مقاصد قرار نہیں دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی اُمت کو بہت بڑے درجہ کی طرف لے جانا چاہا ہے چنانچہ سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ