انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 133

انوار العلوم جلد ۵ ۱۳۳ خاتم النبیین کی شان کا اظہار ے فٹ فٹ اور ساڑھے آٹھ فٹ تک کی دیسی ہی چیزیں رکھی جا سکتی ہیں۔ تو بڑائی کے یہی معنی ہیں اور کہ ہوں ان کو جائے اس قداس کہ اس کے جو ماتحت ہوں ان کو دیکھا جائے جس قدر کسی کے ماتحت بڑے ہوں گے اسی قدر اس کا درجہ بڑا ہوگا۔ ورنہ بڑائی کوئی چیز نہیں ہو سکتی ۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبین ہوئی اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس سے محبت کرے وہ بھی ہمارا محبوب بن جاتا ہے اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر یہ خیال کر لیا جائے کہ نبوت جو خدا تعالیٰ کا ایک انعام اور فضل ہے وہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے آنے سے بند ہو گیا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ ایک دریا بہ رہا ہو اور بڑا پہاڑ اس میں گھر کر اس کو بند کر دے۔ گویا یہ کہنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل دریائے نبوت جاری تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ علم نعوذ باللہ اس میں پہاڑ کی طرح آپڑے اور اس کو روک دیا ۔ اب اگر پھیل کر اس دریا کا پانی نکل جائے تو نکل جائے ورنہ پہلے کی طرح وہ نہیں بہہ سکتا۔ لیکن یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور عظمت کی علامت نہیں بلکہ عظمت کی علامت تو یہ ہے کہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ فیضانِ نبوت جاری ہو۔ پس اگر آپ کا درجہ بڑا ہے اور واقع میں بڑا ہے تو ضروری ہے کہ آپ کے ماتحت بھی بڑے بڑے انسان آپ کی امت سے پیدا ہوں ۔ مثلا یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں جرنیل ہے تو اس کی عظمت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ کرنیل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے جتنے بڑے بڑے انسان پیدا ہوں اتنی ہی آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہوگا۔ ہاں اگر کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے آزاد ہو کر اور آپ کی اتباع چھوڑ کر نبی ہونے کا دعوی کرے تو اس سے آپ کی ہتک ہوگی۔ لیکن حضرت مرزا صاحب تو کہتے ہیں۔ بعد از خدا بعشق محمد محترم کر گھر این بود بخدا سخت کافرم ر ازالہ اوہام حصہ اول صفحه ۸۵ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۵) کہ خدا کے بعد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں سرشار ہوں اگر اس کا نام گھر ہے تو خداکی قسم میں سخت کافر ہوں ۔ کیا ایسے نبی کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسے نبی تو جتنے بھی آئیں ان کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہو گی۔ پھر ایک حدیث میں آتا ہے ۔ تو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّ عله بخاری کتاب المناقب -باب خاتم النبيين