انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 117

انوار العلوم جلد جلده ۔ 114 تقریر سیالکوٹ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنا شروع کر دے ۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں آہی نہیں سکتی کہ ایسا ہو سکتا ہے ایسی لئے خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق فرماتا ہے مخالفین کو کہہ دو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُم عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۔ (یونس : (۱۷) میں نے تم میں ایک لمبی عمر گزاری ہے اس کو دیکھ لو کیسی تھی اور اسی سے اندازہ لگا لو کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے جو اب بولوں۔ یہی بات حضرت مرزا صاحب نے اپنے متعلق بیان کی ہے کہ میں ایک لمبا عرصہ تمہارے درمیان رہا ہوں۔ آج کہیں باہر سے آکر دعوامی نہیں کر دیا ۔ میری پہلی زندگی کو دیکھو ۔ کیسی تھی؟ مگر کسی نے پہلی زندگی میں کوئی نقص نہ بتایا۔ اہل سیالکوٹ سے خطاب آج میں اہل سیالکوٹ کو خاص طور پر مخاطب کرتا ہوں کیونکہ حضرت مرزا صاحب یہاں کئی سال تک رہے اور کئی لوگوں ے ے ان کے تعلقات تھے ۔ مولوی میر حسن صاحب اور حکیم حسام الدین، بم حسام الدین صاحب - لاله لالہ بھیم سین صاحب وکیل ان کے دوستوں میں سے تھے۔ اور بھی کئی لوگوں سے حضرت مرزا صاحب کے تعلقات رہے اور مدتوں رہے اور جوانی کے زمانہ میں جب کہ عام لوگ بدیوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں رہے ۔ پھر قادیان میں سکھ اور ہندو آپ سے مذہبی اختلاف رکھنے والے موجود تھے ۔ ان کو حضرت صاحب نے چیلنج دیا کہ میرے چال چلن میں کوئی عیب نکالو کیا میں نے اس دعوی سے پہلے کبھی جھوٹ بولا، کسی سے فریب کیا ، کسی کو دعا دی یا کوئی اور بری بات کی ۔ اگر نہیں تو خدا را غور کرو۔ جو کل تک لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا رہا وہ آج کسی طرح جھوٹ میں اتنا بڑھ سکتا ہے کہ لوگوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ پر چھوٹ بولنے لگ جائے ۔ ہر ایک تغیر وقفہ چاہتا ہے اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ایک حالت سے بدل کر دوسری حالت کی طرف جانے کے لئے وقفہ ضروری ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت دیتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب کل تک اس کی راست بازی اور سچائی میں کسی کو شبہ نہیں تھا تو ایک رات میں کس طرح اتنا تغیر ہو گیا کہ خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا۔ یہی حضرت مرزا صاحب نے کہا کہ اگر یہ مکن نہیں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا ۔ حضرت مرزا صاحب یہاں سیالکوٹ میں کئی سال رہے اور آپ سے ملنے والے بہت لوگ ابھی زندہ ہیں ۔ ان سے دوسرے لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے کیسے اخلاق تھے ۔ ایک دفعہ جب حضرت مرزا صاحب پر جہلم میں مقدمہ دائر کیا گیا تو یہاں کے لالہ بھیم سین صاحب نے آپ کو خط لکھا کہ میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں خود آنہیں سکتا اگر اجازت دیں تو میرا بیٹا جو بیرسٹر ہو کر آیا ہے اسے شہادت کے لئے بھیج دوں وہ