انوارالعلوم (جلد 5) — Page 116
انوار العلوم جلد ۵ 14 تقریر سیالکوٹ کیا حضرت مرزا صاحب غلطی خوردہ تھے ؟ اب رہاہے کہ کیا آپ غلطی خوردہ تھے۔ ؟ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں میں کہ مرزا صاحب نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو بعض ایسے مقامات سے گزرنا پڑتا ہے جہاں غلطی لگ جاتی ہے ۔ اسی طرح مرزا صاحب کے ساتھ ہوا اور اس کے ثبوت میں یہ سناتے ہیں کہ جس طرح منصور نے انا الحق کیا تھا اسی طرح مرزا صاحب نے جو دعوے کئے ان ان کو غلطی لگ گئی۔ مگر دراصل یہ کہنے والوں کی غلطی ہے ۔ اگر منصور کو آنا الْحَقُّ الہام ہوا تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔ قرآن کریم میں ایسی آیتیں ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے آپ کو اسی طرح مخاطب کرتا ہے۔ پس اس الہام سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منصور نے خدا ہونے کا دعوی کر دیا ۔ کیونکہ اگر کوئی خدا کا ہو کر بھی ایسی ٹھوکر کھائے تو پھر خدا تعالیٰ سے تعلق ہونے کا فائدہ کیا ۔ تو یہ غلط ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو غلطی لگ گئی ۔ آپ متواتر کئی سال کہتے اور اعلان کرتے رہنے کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور وہ الہام پورے ہوتے رہے۔ اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ غلطی خوردہ تھے۔ کیا حضرت مرزا صاحب کو جنون تھا ؟ اب ریا جنون اس کے تعلق مبتی شاد سے فیصلہ ہو سکتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی جماعت میں جتنے طبیب اور ڈاکٹر داخل ہوئے ہیں۔ اتنے کسی اور جماعت میں ایسے معزز ہمیشہ کے لوگ داخل نہیں ہوئے ۔ اس صورت میں سوائے اس شخص کے جو خود پاگل ہو اور کوئی حضرت صاحب کو پاگل نہیں کہہ سکتا ۔ حضرت مرزا صاحب صادق تھے پس ان تینوں باتوں میں سے کوئی بھی حضرت مرزا صاحب کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی ۔ اب یہی پہلو باقی رہ منسوب نہیں کی اب میں پہلو گیا کہ آپ پیتے ہیں ۔ اس کے متعلق دیکھتے ہیں کہ سچائی کے کیا دلائل ہیں ؟ لہ صداقت مسیح موعود کی ایک دلیل قرآن رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک دلیل پیش کرتا ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ چھوٹا ہے وہ ذرا اس کی اس عمر پر تو خود کریں جو دعوامی سے پہلے گزری ہے کہ وہ کیسی تھی ؟ یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کسی کی سچائی کا جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ دعوای سے پہلے کی زندگی کو دیکھیں کیا وہ ایسی نہیں ہے کہ کوئی اس پر حرف گیری نہیں کر سکتا ۔ اگر ایسی ہی ہے تو ظاہر ہے کہ جس شخص نے کل شام تک کسی سے دغا فریب نہیں کیا اور نہ جھوٹ بولا کسی طرح ممکن ہے کہ وہ آج صبح اُٹھ کر لوگوں پر