انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 106

انوار العلوم جلد ۵ 104 تقریر سیالکوٹ زمانہ حال کی شہادت فرماتا ہے سب سے پہلے زمانہ حال کے لوگ ہوتے ہیں کہ دہی ایمان لانے والے ہوتے ہیں اس کے متعلق فرماتا ہے ۔ امن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِن ترتبہ کہ اس زمانہ میں ایسے ثبوت موجود ہیں جو اس رسول کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں ۔ یہاں تو مختصر طور پر فرما دیا اور دوسری جگہ اس کی یوں تفصیل کی ہے کہ دیکھو خدا اس کی تائید کر رہا اور اسے دشمنوں پر غلبہ دے رہا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے ۔ سے ہے یہ کی سے پھر آئندہ زمانہ کے متعلق فرمایا - يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ که زمانہ مستقبل کی شہادت دی رات سے لایا اے گا آئندہ زمانہ میں بھی خدا کی طرف سے ایک ایسا گواہ آئے گا جو اس کی صداقت کو ثابت کرے گا اور اس کے نیچے ہونے کی گواہی دے گا ۔ رسول کریم کے وقت کے جو لوگ تھے ان پر آپ کے نشان حجت تھے۔ مگر سوال ہو سکتا تھا کہ جو بعد میں آئیں گے ان کے لئے کون سے نشان حجت ہوں گے ۔ اس لئے فرمایا ایک ایسا شاہد آئے گا جو اپنے آنے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت کرے گا اور اس رسول کی سچائی کی گواہی دے گا۔ تو اس آیت میں فرمایا کہ زمانہ حال کے لئے تو اس کے نشان حجت ہیں اور زمانہ مستقبل کے لئے ایک اور شخص مبعوث کیا جائے گا جو اس وقت دنیا پر اس کی صداقت ظاہر کر دے گا۔ یہ تو زمانہ حال اور مستقبل کے متعلق ہوا ۔ زمانہ ماضی کی شہادت اور زمانہ ماضی کے متعلق فرماتا ہے وَمِن قَبلِلہ کتب موسی اس سے پہلے زمانہ کے متعلق موسی کی کتاب شہادت دے رہی ہے اس میں شہادت موجود ہے کہ بنی اسمعیل سے ایک ایسا نبی کھڑا ہو گا کہ جو اس کا انکار کرے گا اسے سزا دی کہ سے جائے گی ۔ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸-۱۹ برٹش اینڈ فارن با میل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء ) صداقت کے عقلی اور نقلی ثبوت ہیں یہ ہیں رسول کریم صلی اللہ عیہ علم کی صداقت کے ثبوت دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کہتے ہیں عقلی ثبوت پیش کئے جائیں۔ ان کے لئے فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ نشان ہیں اور یہ بنیات اپنے ساتھ رکھتا ہے ان کو دیکھ کر اس کی صداقت کو تسلیم کرو۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ نقلی طور پر صداقت کا ثبوت دو ۔ ان کو فرماتا ہے ۔ تمہاری کتابوں میں موجود ہے کہ آئندہ ایک نبی آئے گا اور وہ یہی ہے ۔ پھر آئندہ آنے والے لوگ تھے ان کے متعلق فرمایا ۔ جب دنیا خدا کو چھوڑ کر گمراہی میں مبتلاء ہو جائے گی اور اس رسول کا انکار کرے گی ۔ اس وقت ایسا انسان آئے گا جو نشان دکھلائے گا اور