انوارالعلوم (جلد 5) — Page 105
انوار العلوم جلد ۵ ۱۰۵ تقریر سیا لکوٹ بڑے انسان میں مخلوق پر تو ان کا رد کرنا بھی بہت بڑھی ہلاکت اور خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والی بات ہے۔ رسول کریم کی صداقت کے نشان پھر جب رسول کریم صلی الہ علیہ سلم کا انکار بہت بڑی لعنت اور خدا تعالیٰ سے دوری کا باعث ہے اور خدا تعالیٰ سے دوری کا با رہمارے ملک میں لعنت گالی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن عربی میں دُور ہو جانے کو کہتے ہیں ، تو اس کا لازمی نتیجہ ں دور ہو جانے کو کہتے ہیں، تو اس کا یہ بھی نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے بڑے بڑے نشان بھی رکھے ہوں تاکہ ان کے ذریعہ لوگ آپ کو پہچان سکیں۔ ورنہ اگرالیا نہ ہو تو قیامت کے دن لوگ کہہ کے ہوا سکتے ہیں کہ جب ان کا اتنا بڑا دعوی تھا اس کے لئے دلائل اور نشان بھی بڑے بڑے ہونے چاہئیں ہیںکہ ان اتنا برا علوی کے لئے اور نشان بھی ہونے تھے۔ لیکن چونکہ ایسا نہ تھا اس لئے ہم ان کے نہ ماننے کی وجہ سے کسی الزام کے نیچے نہیں ہیں۔ تو عقل سلیم تسلیم کرے گی اور ہر مسلمان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت پہلے انبیاء سے بڑے ہونے چاہئیں کیونکہ آپ کی آمد تمام دنیا کے لئے رحمت تھی اور آپؐ کا دعوای سب انبیاء سے بڑھ کر تھا ۔ قرآن کریم میں صداقت رسول کریم کے نشان اس اس بات کو نظر رکھ کر قرآن کریم کو مد دیکھتے ہیں کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے کیا ثبوت دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں رسول کریم کی صداقت کے متعلق فرماتا ہے ۔ أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَبُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ * فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَالكِنَّ الْتَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ (هود : (۱۸) فرماتا ہے ۔ اس نبی کا انکار کوئی معمولی بات نہیں کیسی مذہب کے انسان ہو اس کا فرض ہے کہ اس ۔ اس پر ایمان لائے اگر وہ خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اس پر سوال ہوتا ہے کہ کسی طرح معلوم ہو کہ اس کے ماننے سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے ۔ فرماتا ہے اس کے تین ثبوت ہیں ۔ افَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ عِتْبُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً تین زمانے ہوتے ہیں۔ ایک ماضی، دوسرا حال ، تیسرا مستقبل یہ تینوں زمانے شہادت دے رہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کی طرف سے ہے پس جس کی صداقت کے لئے زمانہ ماضی، زمانہ حال اور زمانہ مستقبل پکار رہا ہو اس کا کون عقلمند انکار کر سکتا ہے۔ ۔