انوارالعلوم (جلد 4) — Page 615
انوار العلوم جلد ۴ ۶۱۵ تقدیر الهی منحصر ہوتی تو کفار کو ہوتی اور وہ رسول کریم اللہ پر غلبہ پا کر آپ کو ہلاک کر دیتے اور آپ " کے ہلاک ہو جانے کا یہ نتیجہ ہوتا کہ دنیا ظلمت اور گمراہی میں ہی پڑی رہتی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ اور حضرت موسی کے پاس کوئی سامان نہ تھے ۔ اگر صرف تدبیر یا تقدیر عام ہی ہوتی تو جو نبی آتا وہ مارا جاتا اور انبیاء کا سلسلہ ہی دنیا میں نہ چلتا۔ کیونکہ انبیاء کے دشمن طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس سامان ہوتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ تقدیر خاص کو نازل کر کے ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے ورنہ وہ زندہ نہ رہ سکتے اور دنیا سے شرک کو نہ مٹا سکتے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ نبی خدا بناتا ہے یا انسان؟ اگر خدا بناتا ہے تو وہ محمد ( ا ) جیسے بے سرو سامان انسان کو نہ بناتا۔ قیصر جیسے زبردست بادشاہ کو بنا دیتا؟ پس خدا بجائے کمزوروں کو نبی بنانے کے بڑے بڑے بادشاہوں کو بنا دیتا اور تقدیر جاری نہ کرتا۔ لیکن اگر ایسا ہو تا تو خدا تعالیٰ بندوں کا محتاج ہوتا۔ بندے خدا کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ وہ کہتے کہ خدا کو ہم نے ہی اپنی طاقت سے منوایا ہے ورنہ کون اسے مان سکتا تھا۔ گویا خدا پر ان کا احسان ہوتا۔ پس خدا تعالیٰ ا ایسے ہی لوگوں کو نبوت کے لئے چلتا ہے جو ہر وقت اپنے اوپر خدا تعالیٰ کا احسان اور فضل ہوتا دیکھتے اور اس کے شکر گزار بنتے ہیں۔ کوئی یہ مت خیال کرے کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان جو نبی تھے وہ بادشاہ تھے ۔ کیونکہ یہ دونوں نبی نئی جماعتیں تیار کرنے والے نہ تھے۔ ایسے نبی امراء اور بادشاہوں میں سے ہو سکتے ہیں۔ مگر وہ نبی جو نئے سرے سے دنیا کو قائم کرنے کے لئے آتے ہیں اور جن کے ذریعہ مردہ قوم زندہ کی جاتی ہے وہ صرف غرباء میں سے ہی ہوتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان لانے سے روحانیت کے سات درجے طے ہوتے ہیں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تقدیر پر ایمان لانے کے کیا فائدے ہیں۔ پہلا فائدہ تو ام تقدیر کے ماتحت یہ ہے کہ دنیاوی ترقیات حاصل ہوتی ہیں۔ اگر درجه اول تقدیر پر ایمان نہ لایا جارے تو کوئی کام چل ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ تمام کارخانہ عالم اسی بناء پر چل رہا ہے کہ انسان قدرت کے بعض قواعد پر ایمان لے آتا ہے۔ مثلا یہ کہ آگ جلاتی ہے ، پانی بجھاتا ہے ، اگر خواص الاشیاء پر یقین نہ ہو تو انسان سب کوششیں چھوڑ دے اور