انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 614

انوار العلوم جلد ۴ اله تقدیرانی پس یہ تقدیر تھی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس صحابی کو نجات دی۔ تقدیر عام کے ذریعہ اس صحابی کی مشکل کا کوئی حل ممکن نہ تھا۔ پس خدا تعالیٰ نے بادشاہ کی گردن پکڑ کر اس سے صحابی کو آزاد کرا دیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ خدا تعالیٰ کا حکم ہوا کہ فلاں ملک میں چلے جاؤ۔ جب وہ اپنے ساتھیوں سمیت چلے تو راستہ میں ایسا جنگل آگیا جہاں پانی نہیں مل سکتا تھا اور کنواں بھی نہیں نکل سکتا تھا کیونکہ پتھریلی زمین تھی۔ اس موقع پر وہ کیا کرتے۔ نہ ادھر کے رہے تھے نہ ادھر کے۔ نہ واپس جاسکتے تھے نہ آگے بڑھ سکتے تھے ۔ اگر اس وقت خدا ہی اپنا رحم نہ کرتا تو وہ کیا کر سکتے تھے؟ اس وقت ایک ہی علاج تھا کہ اللہ تعالیٰ خاص تقدیر جاری کرے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے خدا تعالیٰ سے عرض کیا کہ اللہ ہم پیاسے مرنے لگے ہیں آپ ہی کوئی انتظام کیجئے کہ ہمیں پانی مل جائے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں جگہ جا اور جا کر اپنا عصا مار ۔ چنانچہ اس جگہ جا کر جب انہوں نے عصا مارا تو چشمہ پھوٹ پڑا اور ان کو پانی مل گیا۔ اب اس جگہ چشمہ تو ازل سے تھا مگر کیوں؟ اس لئے کہ یہاں ایک موسئی پہنچے گا اور اسے اور کہیں سے پانی نہیں ملے گا اس وقت یہاں سے پانی دیا جائے گا۔ اسے موجود تھا تو جہاں اسباب کام نہیں دیتے اور ایسے مواقع پیش آتے ہیں۔ اس وقت اگر ہلاکت سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہے تو تقدیر خاص ہی ہے۔ پس اگر تقدیر خاص نہ ہوتی تو یہ نقصان ہوتے کہ ۔ (1) ایمان باللہ حاصل نہ ہو سکتا۔ (۲) خدا تعالیٰ کے ساتھ بندہ کے تعلقات مضبوط نہ ہو سکتے۔ (۳) توبہ کر کے گناہوں سے بچنے کا موقع نہ ملتا۔ (۴) ایسے مواقع پر جن میں اسباب نہیں مہیا ہو سکتے ان میں انسان ہلاکت سے نہ بچ سکتا۔ پھر یہ کہ اگر تقدیر نہ ہوتی تو ساری دنیا شرک میں تقدیر نہ ہونے کا ایک اور نقصان مبتلاء ہو جاتی وجہ یہ کہ ایسے ہی جو شریعت لائے کچھ چھ نہ ہوتے۔ ہیں اور اپنی جماعتیں قائم کرتے ہیں وہ سارے ایسی حالت میں آتے کہ ان کے پاس سامان ے نبی کریم ﷺ نے جب مکہ میں بتوں کو باطل قرار دیا تو اس وقت آپ کے ساتھ کوئی سامان نہ تھے۔ اور مکہ والے جن کا گزارہ ہی بتوں پر تھا چاہتے تھے کہ آپ آ۔ کو مار دیں۔ ان کے مقابلہ کے لئے آپ کے پاس نہ فوج تھی نہ طاقت ۔ اب اگر سامانوں پر ہی کامیابی