انوارالعلوم (جلد 4) — Page 498
انوار العلوم جلد ۴ ۴۹۸ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷- دسمبر ۱۹۱۹ء سے مارٹن کلارک کا حضرت مسیح موعود کے خلاف مقدمہ تھا تو مولوی محمد حسین صاحب بڑی خوشی لمبا جبہ پہن کر عدالت میں گواہی دینے کے لئے اس خیال سے پہنچے تھے کہ بس آپ کو آپ کو قید ہی کرادوں گا۔ اور اس بات کی بڑی امید لگا کر گئے تھے کہ ان کو ہتھ کڑی لگی ہوئی ہوگی اور وہ پابز نجیر کھڑے ہوں گے ۔ لیکن جب عدالت میں جا کر دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب کی کرسی کے پاس کرسی پر بیٹھے ہیں۔ تو دیکھ کر جل گیا اور کہنے لگا مجھے بھی بیٹھنے کے لئے کری دی جائے ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا آپ کا نام کرسی نشینوں میں نہیں ہے۔ اس نے ہے۔ اس نے کہا میں لاٹ صاحب کو ملا تھا انہوں نے مجھے کرسی دی تھی اس لئے مجھے کرسی دی جائے۔ حالانکہ ملاقات کے وقت کرسی کامل جانا اور بات ہے اور عدالت میں کرسی ملنا اور بات۔ لیکن اس نے اس بات کا کوئی خیال نہ کیا اور کرسی طلب کی۔ اس پر اسے کہا گیا بک بک مت کرو اور پیچھے ہٹ کے جوتیوں میں کھڑے ہو جاؤ ۔ واقعے میں جس چیز کا کسی کو حق نہ ہو اگر وہ اسے طلب کرے تو ذلیل کیا جاتا ہے۔ ہمارا خدا تعالی پر کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ نے جو حق خود قرار دے دیا ہے وہ ہے۔ اور وہ ہمیں مل سکتا ہے۔ مگر وہ بھی اسی وقت جب ہم اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کریں۔ ورنہ ہمارے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کے حضور وہی سلوک کیا جائے گا جو مولوی محمد حسین کے ساتھ عدالت میں کیا گیا۔ مگر ہم خدا تعالٰی سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنا فضل کرے گا اور ہمیں اپنے انعام کا وارث بنائے گا۔ عبد بنے بغیر جنت میں نہ جانے کی طبعی وجہ ہیں تم لوگ عبد بنے کی کوشش کرو اوجہ کیونکہ وہ انعام جو خدا تعالی نے مؤمنوں کے لئے رکھا ہے۔ وہ اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ انسان عبد بن جائے۔ اور طبعی طور پر بھی انسان اس وقت اس انعام کا مستحق ہو سکتا ہے جو اس کے لئے خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے جب کہ وہ عبد بن جائے۔ کیونکہ بندہ کا حق خدا تعالیٰ نے جنت مقرر کیا ہے اور اس میں سب سے بڑا انعام خدا تعالی کی رؤیت ہے۔ اور بھی انعامات ہیں لیکن سب سے بڑا انعام یہی ہے۔ اب یہ سمجھنا چاہئے کہ جنت مل نہیں سکتی جب تک انسان عبد نہ ہو۔ اور شریعت کے احکام کے علاوہ اس کی ایک طبعی وجہ بھی ہے۔ یہی نہیں کہ قرآن کریم میں آگیا ہے کہ جو عبد نہیں بنے گا وہ جنت میں نہیں جا سکے گا بلکہ جنت میں جانے کے لئے طبعی طور پر بھی عبد بننا ضروری ہے۔ جنت اس مقام کا نام ہے جس پر کبھی فنا نہیں آنے والی۔ دوزخ پر بھی فنا کا وقت آجائے گا۔