انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 497

انوار العلوم جلد ۴ ۳۹۷ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء پیدا کئے گئے ہیں۔ مگر آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے۔ کہ تمہارے پیدا کرنے کی کیا غرض ہے اور تمہاری روحانی آنکھیں کھول دی گئی ہیں۔ پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اس غرض کی طرف پورے طور سے توجہ کریں۔ اور یاد رکھو کہ تم خدا تعالیٰ کے انعامات اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک اس غرض کو پورا نہ کرو۔ ایک بے وقوف نوکر سمجھ سکتا ہے کہ بغیر حق کے طلب کرنے والا ذلیل ہوتا ہے مجھے بغیر نوکری کی غرض پورا کئے انعام مل جائے گا۔ لیکن کوئی عقلمند اور دانا انسان یہ نہیں سمجھ سکتا۔ کہتے ہیں ایک بے وقوف لڑکا تھا اس کو ماں نے کہا جا کہیں نوکری کر۔ اور بتا دیا کہ جب آقا خوش ہوتا ہے تو نوکروں کو انعام بھی دیا کرتا ہے۔ اس لئے ایسے موقع پر آقا سے انعام مانگنا چاہئے۔ اس نے پوچھا یہ کس طرح معلوم ہو کہ آقا خوش ہوا ہے۔ ماں نے کہا جب کسی کام پر ہے تو سمجھ لو کہ خوش ہے۔ وہ گیا اور ایک شخص کا نوکر ہو گیا۔ ایک دن آقا نے اسے کہا۔ بھئی! دیکھنا باہر بارش ہو رہی ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہو رہی ہے۔ آقا نے کہا۔ تمہیں اندر ہی بیٹھے کس طرح معلوم ہو گیا؟ اس نے کہا ابھی باہر سے بلی آئی تھی وہ بھیگی ہوئی تھی۔ جس سے معلوم ہوا کہ بارش ہو رہی ہے۔ یہ جواب تو جو کچھ تھا سو تھا۔ ممکن تھا کہ بلی کہیں پانی میں لوٹ کر آئی ہو۔ مگر آقا نے زیادہ زور نہ دیا اور خاموش ہو رہا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے کہا ۔ ذرا اٹھ کر لیمپ بجھا دو۔ نوکر نے کہا۔ آپ لحاف اوڑھ کر سو ۔ اوڑھ کر سو جائیں روشنی نظر نہیں آئے گی۔ تھوڑی دیر بعد آقا نے کہا کہ دروازہ بند کر دو۔ اس نے کہا کہ دو کام میں نے کئے ہیں ایک آپ ہی کر دیں۔ اس پر اس کا آقا اس کی حماقت پر ہنسا۔ اور اس بے وقوف نو کر نے سمجھا کہ اس وقت یہ میری خدمت پر خاص طور پر خوش ہوا ہے اور یہ موقع انعام لینے کا ہے۔ اس وقت اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور کہا کہ حضور بندہ انعام کا خواست گار ہے۔ کہ یہ ایک بے وقوف کا قصہ ہے۔ جس نے اپنے آقا سے انعام کی درخواست کی حالانکہ اس نے اس غرض کو پورا نہ کیا تھا جس کے لئے اسے رکھا گیا تھا۔ مگر کیا کوئی عقلمند اس طرح کر سکتا ہے ؟ اس کو کیا انعام مل سکتا تھا ؟ یہی کہ آقا نے کان سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا۔ تو ایسے آدمی کا کوئی حق نہیں ہوتا کہ انعام کا طالب ہو۔ اور اس کا وہی حال ہوتا ہے۔ جو عدالت میں کرسی پر بیٹھنے کے حق کے مطالبہ کے وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ہوا تھا۔ جب