انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 472

انوار العلوم - جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء ہو ہی نہیں سکتی۔ دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ - ( تذکره صفحه ۷۲۵ ایڈیشن چہارم) کہ اے مسیح موعود جو تیری ہتک کا ارادہ کرتا ہے میں اس کی ہتک کروں گا۔ اس میں خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ تیری عزت چونکہ میں نے قائم کی ہے تیری ہتک کوئی نہیں کر سکتا ہاں لوگ تیری ہتک کرنے کا ارادہ کریں گے اور جو ایسا ارادہ کریں گے میں ان کو سزا دوں گا اور ان کو ذلیل کروں گا۔ تو چونکہ اکرام ضیف بہت بڑا فرض ہے اور جو اس میں کو تاہی کرتا ہے وہ بہت اکرام ضعیف بوئے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لئے ان لوگوں پر رحم کے طور پر جن کی طرف سے رات کو کو تاہی ہوئی ہے میں ان کی طرف سے آپ لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے۔ در حقیقت یہاں آنے والے لوگوں کی مہمان نوازی میرا فرض ہے۔ قرآن کریم میں رسول اللہ ا کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم تجھ پر لڑائی فرض کرتے ہیں ۔ آگے تم مؤمنوں کو تحریص و ترغیب دلاؤ۔ اس طرح چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ میرا فرض ہے کہ مہمانوں کی مہمان نوازی کروں۔ اس لئے احباب سے میں ہی معذرت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر اس کے بعد میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل سے پھر ہمیں یہ موقع دیا کہ اس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں۔ در حقیقت بھائیوں F بھائیوں کی ملاقات ایک بہت بڑی نعمت ہے حتیٰ کے نبیوں کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود آمین میں لکھتے ہیں کہ احباب جانے لگے ہیں اور ان کے جانے کی تکلیف محسوس ہوتی ہے اس طرح آنے سے خوشی بھی ہوتی ہے۔ پس جلسہ پر جو تقریریں وغیرہ ہوتی ان کو الگ رہنے دو۔ خود احباب کا ایک دو سرے سے ملنا دو سرے سے ملنا بھی بہت بڑی خوش خوشی کی بات ہے۔ ہیں اور اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انتظام سلسلہ کے محلے اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنے کے بعد میں احباب کو ان امور کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو سلسلہ کے انتظام اور نظم کے متعلق ہیں۔ میں نے پچھلے سالانہ جلسہ پر آپ صاحبان کو اطلاع دی تھی کہ سلسلہ کے کاروبار کاروبار کو ایک انتظام کے ماتحت لانے کے لئے چند محکمے قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک محکمہ تو تالیف و مه ياتِهَا النَّبِيُّ حَرِضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ------ لَا يَفْقَهُونَ (الانفال : ٢٦ ) (५५: