انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 330

انوار العلوم جلد ۴ ۳۳۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز ناراض ہے۔ کیا اس کے سوا تجھے مجھ پر کوئی غصہ ہے کہ تجھ سے میں نے خدا کے حقوق ادا کروائے ہیں۔ اس پر محمد بن ابی بکر شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گئے۔ لیکن دوسرے شخص رہیں رہے اور چونکہ اس رات بصرہ کے لشکر کی مدینہ میں داخل ہو جانے کی یقینی خبر آچکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لئے آخری موقع تھا ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی بیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان کے سامنے جو قرآن دھرا ہوا تھا اس کو لات مار کر پھینک دیا۔ قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان کے پاس آگیا اور آپ کے سرپر سے خون کے قطرات گر کر اس پر آپڑے قرآن کریم کی بے ادبی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقوی اور دیانت کا پردہ اس واقع سے اچھی طرح فاش ہو گیا۔ جس آیت پر آپ کا خون گرا وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت میں جا کر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ آیت یہ تھی فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة (۱۳۸) اللہ تعالیٰ ضرور ان سے تیرا بدلہ لے گا اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔ چاہا۔ پہلا وار اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو رو روکا اور آر آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔ اس کے بعد پھر اس نے دوسرا وار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا مگر اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ کی بیوی کی انگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں۔ پھر اس نے ایک دار حضرت عثمان پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کرکے کہ ابھی جان نہیں نکلی شاید بچ جاویں اس وقت جب کہ زخموں کے موں سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدت درد سے تڑپ رہے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کیا اور اس وقت تک آپ کا گلا نہیں چھوڑا جب تک آپ کی روح جسم خاکی سے پرواز کر کے رسول کریم ﷺ کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم بالا کو پرواز نہیں کر گئی ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ۔