انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 329

انوار العلوم جلد ۴ ۳۲۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز اور رسول کریم نے آپ کے ایمان لانے پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور رسول کریم ا کے ساتھ ہر ایک مصیبت اور دکھ میں آپ شریک ہوئے۔ اور اسی طرح یہ بھی بھول گیا کہ ان کا لیڈر اور ان کو ورغلانے والا حضرت علیؓ کو رسول کریم ﷺ کا وصی قرار دے کر حضرت عثمان کے مقابلہ پر کھڑا کرنے والا عبداللہ بن سبا بھی یہو دن کا بیٹا تھا بلکہ خود یہودی تھا اور صرف ظاہر میں اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔ مفسدوں کا حضرت عثمان کو قتل کرنا حضرت عبداللہ بن سلام" تو ان لوگوں مایوس ہو کر چلے گئے اور ادھر ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ دروازہ کی طرف سے جاکر حضرت عثمان کو قتل کرنا مشکل ہے کیونکہ اس طرف ڑے بہت جو لوگ بھی روکنے والے موجود ہیں وہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں یہ فیصلہ کیا کہ کسی ہمسایہ کے گھر کی دیوار پھاند کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا جائے چنانچہ اس ارادے سے چند لوگ ایک ہمسایہ کی دیوار پھاند کر آپ کے کمرہ میں گھس گئے۔ جب اندر گھسے تو حضرت عثمان قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ اور جب سے کہ محاصرہ ہوا تھا رات دن آپ کا کی شغل تھا کہ نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کے سوا اور کسی کام کی طرف توجہ نہ کرتے اور ان دنوں میں صرف آپ نے ایک کام کیا اور وہ یہ کہ ان لوگ لوگوں کے گھروں : داخل ہونے سے پہلے آپ نے دو آدمیوں کو خزانہ کی حفاظت کے لئے مقرر کیا۔ کیونکہ جیسا کہ ثابت ہے اس دن رات کو رو رات کو رویا میں رسول کریم ا آپ کو نظر آئے اور نظر آئے اور فرمایا کہ عثمان آج شام کو روزہ ہمارے ساتھ کھولنا۔ اس رویا سے آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ آج میں شہید ہو جاؤں گا پس آپ نے اپنی ذمہ داری کا خیال کر کے دو آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ خزانہ کے دروازہ روں میں پر کھڑے ہو کر پہرہ دیں تاکہ شور و شر میں کوئی شخص خزانہ لوٹنے کی کوشش نہ کرے۔ غرض جب یہ لوگ اندر پہنچے تو حضرت عثمان کو قرآن واقعات شہادت حضرت عثمان کریم پڑھتے پایا ان حملہ آوروں میں محمد بن ابی بکر بھی تھے۔ اور بوجہ اپنے اقتدار کے جو ان لوگوں پر ان کو حاصل تھا اپنا فرض سمجھتے تھے کہ ہر ایک کام میں آگے ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بڑھ کر حضرت عثمان کی ڈاڑھی پکڑ لی اور زور سے جھٹکا دیا۔ حضرت عثمان نے ان کے اس فعل پر صرف اس قدر فرمایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ (حضرت ابو بکر ) اس وقت ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔ تجھے کیا ہوا تو خدا کے لئے مجھ پر (