انوارالعلوم (جلد 4) — Page 230
انوار العلوم جلد ۴ الي ۲۳۰ اصلاح اعمال کی تلقین علیہ السلام مبعوث ہوئے اور جو توحید کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور جنہوں نے توحید کی خاطر اپنی قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کر انا منظور کر لیا مگر اسی قوم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اس میں بھی شرک موجود تھا۔ مگر جب رسول کریم ﷺ کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کی توحید کی رو کا اثر توحید قائم ہوئی تو آج وہ مشرک لوئی تھی جو اپنی بت پرستی پر بڑا زور دے رہے تھے کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں شرک بعد میں داخل ہوا ہے پہلے نہیں تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ مانا کہ پہلے شرک نہیں تھا لیکن یہ تو بتاؤ کہ شرک کے خلاف تم میں خیال کب سے پیدا ہوا۔ رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد ہی پیدا ہوا۔ تو دنیا کو گو ظاہری طور پر نظر نہیں آتا کہ رسول کریم اس کے ذریعہ شرک کے خلاف جو لہر پیدا ہوئی اس کا کس قدر اثر ہوا لیکن جب بتایا جائے تو ہر ایک سمجھدار یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شرک کے خلاف رسول کریم اس کے دل سے جو ہر نکلی وہی پھیل رہی ہے۔ یہ میں نے ایک ایسی مثال دی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی مگر تمام لوگ مانتے ہیں کہ محمد ﷺ کا وجود ایک رو لایا جو تمام دنیا میں پھیلی اور اب ہر قوم اقرار کرتی ہے کہ ہمارے مذہب میں شرک نہیں۔ یا تو وہ وقت تھا کہ کہا جاتا تھا مسیح کا خدا ہونا عیسائیت کی صداقت کی دلیل ہے اور دیگر مذاہب پر اسے میں فوقیت حاصل ہے چنانچہ گزشتہ زمانہ میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں جو مناظرے ہوتے رہے ہیں ان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے مگر آج عیسائی صاحبان کہتے ہیں ہمارا مذہب اس لئے سچا ہے کہ صرف اسی میں توحید پائی جاتی ہے۔ گویا یہ مذہب یا تو اس لئے سچا تھا کہ اس میں خالص شرک پایا جاتا تھا یا اب اس لئے سچا ہے کہ اس میں خالص توحید پائی جاتی ہے۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ رسول کریم ﷺ کے ذریعہ جو ہر شرک کے خلاف پیدا ہوئی وہ سب کے اندر سرائت کر گئی اور اندر ہی اندر شرک کا قلع قمع کر رہی ہے۔ یہ لر گو مخفی ہے اور ہر ایک کو نظر نہیں آتی مگر غور اور تدبر سے دیکھنے والے خوب دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا انسان کے دل میں پیدا ہونے والی کوئی رو ضائع نہیں جاتی ہے کہ انسان کی کوئی حرکت ضائع نہیں جاتی۔ دیکھو ادھر شرک کی لہر ایسے زور سے پھیل رہی تھی کہ ہر شخص اس کی طرف جھک گیا تھا لیکن جب اس کے خلاف روحانی پر پھیلی تو اس کی طرف بھی دنیا جھک گئی۔ ان