انوارالعلوم (جلد 4) — Page 229
انوار العلوم جلد ۴ ۲۲۹ اصلاح اعمال کی تلقین کو بالکل اڑا دیا جائے یا اس قدر خفیف اور ہلکا کر دیا جائے کہ اہل یورپ کو معلوم نہ ہو سکے کہ ہم پر وہ کے پابند ہیں۔ اسی طرح تعدد ازواج کے متعلق مسلمانوں کی کوشش ہے کہ یورپ سے اس کو چھپایا جائے اس کے لئے طرح طرح کے بیچ ڈالے جاتے ہیں لیکن اصل بات یہی ہے کہ آج کل جو رو چلی ہوئی ہے اس سے ڈر پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم اس کے سامنے کھڑے رہے اور اس کے ساتھ نہ بنے لگے تو ہمارا مذہب قائم نہیں رہ سکے گا۔ اسی طرح اور مسائل ہیں مثلاً نماز اس کے متعلق کہا جاتا ہے ظاہر نماز کی کیا ضرورت ہے یہ پہلے لوگوں کے لئے تھی اب تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ میز کرسی پر بیٹھ کر خدا کی حمد گالیں اور جب خدا کا نام آئے تو ذرا سر جھکا دیں اور بس۔ یہ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لئے کہ آج کل جو رو چلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنے اصلی عقائد پر قائم رہے تو مٹ جائیں گے۔ یہی حالت توحید کی اس زمانہ میں ہو چکی تھی جس میں رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے۔ تمام کے تمام مذاہب میں ایک رو چل گئی تھی کہ ہم اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتے جب تک کہ کسی نہ کسی رنگ میں شرک کو اختیار نہ کرلیں۔ کس خبیث الفطرت انسان کے دل میں پہلے پہل یہ رو پیدا ہوئی۔ تاریخ سے اس کا پتہ نہیں ملتا لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ گندی رو پیدا ضرور ہوئی اور ابلیس کی تائید سے پھیلتی گئی۔ اس رو کا مقابلہ کرنے اور اس کی بجائے توحید شرک کی رو سے توحید کی رو کا مقابلہ پھیلانے کے لئے جو انسان اس زمانہ میں کھڑا ہوا وہ رسول کریم ال تھے ۔ گو اس وقت عرب میں ایسے لوگ تھے جو فردا فردا ایک خدا کو مانتے تھے مگر لوگوں کے سامنے اسے بیان کرنے سے ڈرتے تھے ۔ ہاں وہ اپنے دل کی بھڑاس شعروں میں نکالتے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں شرک کے خلاف رو موجود تھی مگر ایسی ہی جیسی کہ دریا کے مقابلہ میں درخت کی پتی۔ اس لئے وہ شرک کے دریا کو کیا روک سکتی تھی۔ پس ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ شرک کے دریا کو روک سکتے لیکن خدا تعالیٰ نے رسول کریم اس کے وجود میں ایسی رو پیدا کی جس نے شرک کا مقابلہ کرکے اسے مٹا دیا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یا تو یہ لہر چلی ہوئی تھی کہ ہر ایک مذہب والے اپنے اپنے مذہب میں شرک داخل کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ہم اس سے خالی نہ رہیں یا یہ کہ پینتیس کروڑ بتوں کے ماننے والے بھی کہنے لگے کہ ہم بھی توحید کے قائل ہیں۔ پھر وہ قوم جس میں حضرت موسیٰ