انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 463

انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۶۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں اس پیشگوئی میں ہماری صداقت کا بھی ثبوت ہے۔ جو کہ آنحضرت ا کی زبانی ہے۔ یہ پیشگوئی دو طرح پر آئی ہے ایک میں دجل کا لفظ آیا ہے اور دوسری میں رِجَالٌی کا اب ہم ۔ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب ایمان اٹھ جائے گا اور عقائد بگڑ جائیں گے تو خدا تعالیٰ ایک فارسی النسل انسان کو کھڑا کرے گا۔ جو اگر ایمان آسمان پر بھی چلا جائے گا تو واپس لے آئے گا۔ اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایسا شخص ایک نہیں ہو گا بلکہ کئی ہوں گے۔ اب یہ بات تو سب لوگ مانتے ہیں کہ اس زمانہ کی طرح پہلے کبھی ایمان ثریا پر نہیں گیا اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو یقینی طور پر دعوی کر سکے کہ میں فارسی النسل ہوں۔ مگر حضرت مسیح موعود کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا ہے اور صرف آپ ہی نے فارسی النسل ہونے کا دعوی کیا ہے۔ پس ہم کہتے ہیں تمام دنیا پر اس وقت وہ کون سا خاندان ہے۔ جو یقینی طور پر کہتا ہے کہ میں فارسی النسل ہوں۔ ہمارے سوا سوا کوئی بھی نہیں ۔ اور رسول کریم اللہ فرماتے ہیں کہ ایمان کے لانے والے کئی ایک ہوں گے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ ہمارے خاندان کے دوسرے لوگ بھی اس پیشگوئی میں شامل ہیں۔ موجودہ اختلاف کے زمانہ میں اگر یہ ہوتا کہ حضرت مسیح موعود کے لڑکوں میں سے بعض ایک طرف ہوتے اور بعض دوسری طرف تو غیر مبالعین کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی حق پر ہیں کیونکہ ہم بھی ابنائے فارس میں سے ہیں۔ لیکن خدا کی منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود کی تمام اولاد ہماری طرف ہی ہے۔ اور اس کے متعلق رسول کریم ا نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ایمان کو قائم کرنے والے ہوں گے نہ کہ نقصان پہنچانے والے اس سے معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں۔ خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ لیکن میں نے آپ لوگوں کو جو کچھ سنایا ہے اس سے آپ نے معلوم کر لیا ہو گا کہ ہمارا کام کوئی چھوٹا سا کام نہیں ہے۔ اگر کسی ایک آدمی کے یا ایک شہریا ایک علاقہ کے لوگوں کے عقائد خراب ہوتے تو کوئی بڑی بات نہ تھی۔ لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت فرشتوں کی نسبت قرآن کریم کی نسبت آنحضرت کی نسبت نبیوں کی نسبت حشر و نشر کی نسبت اور قیامت کی نسبت سب عقائد بگڑے ہوئے ہیں۔ اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے ایمان میں تزلزل آچکا ہے اور ان کو درست کرنا ہمارا فرض ہے۔ کیا اتنے بڑے کام کے ہوتے ہوئے ہم سستی اور غفلت سے کام لے سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ جتنا بڑا کام ہے اتنی ہی زیادہ ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔ دیکھو جس آدمی کو 1