انوارالعلوم (جلد 3) — Page 462
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۶۲ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں چوری کر چکا ہے تو ایسے بعض مفسرین نے ایسے واقعات لکھنے شروع کر دیتے ہیں کہ واقعہ میں حضرت یوسف نے نعوذ باللہ چوری کی تھی۔ انہوں نے اپنی پھوپھی کا کرتہ چرایا تھا۔ تو نبیوں پر کوئی نہ کوئی الزام ضرور لگاتے ہیں۔ اور صاف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ پاک تھے اور کوئی نبی بری نہیں تھا۔ حتی کہ رسول کریم اس پر بھی انہوں نے الزام لگاتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے کہ آنحضرت ا حضرت زینب پر عاشق ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے ان کو ننگا نہاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ کہتے ہیں رسول اللہ اللہ ڈرپوک تھے۔ آپ کے بعد حضرت علی شیر خدا خلافت لینے کے مستحق تھے۔ لیکن آپ نے ابو بکر سے ڈر کر نہ بنایا۔ پھر ملائکہ کی نسبت کہتے ہیں کہ اس دنیا میں دو فرشتے آئے تھے اور وہ ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے اور اس سے زنا کیا ۔ وہ کنچنی تو ستارہ بن کر آسمان پر جا چکی اور وہ دونوں ایک کنویں میں لٹکا دیئے گئے۔ غرض اسلام کا کوئی عقیدہ اور کوئی بات ایسی نہیں رہی جس کو انہوں نے بالکل مسخ نہ کر دیا ہو۔ پھر جزاء وسزا کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے اور اس کو آنحضرت ا کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا خواہ کوئی کس قدر گناہ کرے لیکن لا الہ الا اللہ کہنے سے جنت میں چلا جائے گا۔ كا پھر جنت کا نقشہ ایسا برا ابرا کھینچتے ہیں کہ سن کر شرم آجاتی ہے ہم نے ایک دفعہ ندوۃ العلماء جلسہ دیکھا۔ اس میں ایک مولوی صاحب نماز کی فضیلت پر لیکچر دے رہے تھے جسے سن کر انگریزی خوان اور شریف آدمی شرم کے مارے اپنے منہ پر رومال رکھ رہے تھے۔ مولوی صاحب نے نماز کی ضرورت اور فضیلت صرف یہ بیان کی کہ نماز کے بدلہ میں جنت ملے گی اور جنت وہ مقام ہو گا جس میں اس اس طرح عورتوں سے تعلق کا موقعہ ملے گا اس جماع میں خاص قسم کی لذت اور سرور ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ پورا ڈیڑھ گھنٹہ انہی باتوں کی تشریح اور توضیح کرنے میں اس کا صرف ہوا۔ یہ حالت ہے مسلمانوں کے علماء کی۔ اس لیئے خدا تعالٰی نے مسیح موعود کو بھیجا کہ جن کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقَا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ أَوْ رِجَالٌ أَوْ مِنْ میں ایک ضمنی بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ولاء یہاں میں ه بخارى كتاب التفسير - باب قوله و اخرين منهم لما يلحقوا بهم ميں روايت اس طرح ہے "لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هؤلاء